خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 135

خطبات محمود جلد (5) ۱۳۵ مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا۔اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ مشرک فوت ہوئے گو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے (چنانچہ حضرت مسیح موعود نے اس کو مشرکانہ عقیدہ قرار دیا ہے) حتٰی کہ حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔“ اب ہر ایک عقلمند آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابتداء میں حضرت مسیح کی وفات کے متعلق انکشاف نہ ہونے کی وجہ سے براہین احمدیہ میں ان کے زندہ ہونے کے متعلق لکھ دیا تھا لیکن بعد میں جب وفات مسیح کے متعلق انکشاف ہو گیا تو آپ نے اس عقیدہ کا رکھنا شرک قرار دے دیا اسی طرح آپ نے بے شک ایک وقت تک نبی کی وہی تعریف کی جو آج کل کے مسلمان کرتے ہیں لیکن چونکہ اس وقت تک آپ پر اس مسئلہ کا پوری طرح انکشاف نہ ہو ا تھا۔اس لئے آپ عام مسلمانوں کے عقیدہ پر ہی قائم رہے مگر جب آپ پر نبوت کی تعریف کھل گئی تو آپ نے لکھ دیا کہ :- ”نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے۔“ چشمہ معرفت ص ۱۸۰-۱۸۱) گویا وہی عقیدہ رکھنے والوں کو جو ایک وقت میں خود حضرت مسیح موعود کا تھا نادان قرار دیا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ جب تک حق نہیں کھلا تھا وہ عقیدہ رکھنے والے معذور تھے۔لیکن جب حق کھل گیا تو ان کے لئے بدلنا ضروری تھا اسی طرح اس آیت سے ایک وقت میں حضرت صاحب نے یہ استدلال کیا کہ نبی وہ ہوتا ہے جو دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔لیکن جب آپ پر اس کی حقیقت کھل گئی تو خود ہی یہ فرما دیا کہ :۔نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو۔اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ