خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 134

خطبات محمود جلد (5) ۱۳۴ اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کی اس دروغ بیانی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ایک خط آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے کتاب حقیقۃ النبوت سے میری عبارت کا ایک ٹکڑا نقل کر کے رکھا ہوا ہے جو یہ ہے کہ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا۔اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللهِ ( النساء: ۶۵) اور اس آیت سے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف استدلال کرتے ہیں لیکن یہ سب قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود کی عبارت ازالہ اوہام سے یہ کھی ہوئی ہے کہ افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم و یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ حدیث کے رو سے بکلی ممتنع ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا لِيُطَاعَ باذن اللہ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ دوسروں کا مطیع اور تابع ہو۔“ یہ دونوں عبارتیں وہ لوگوں کو کہتا ہے کہ دیکھو ہمیں میاں صاحب سے کوئی مخالفت نہیں لیکن وہ تو حضرت مسیح موعود کو گالیاں دیتے ہیں جیسا کہ اس عبارت میں نادان کہا ہے۔پھر ہم کس طرح ان کے ساتھ مل سکتے ہیں۔لیکن یہ ایک دھوکہ ہے جو لوگوں کو میری طرف سے دیا جاتا ہے۔کیونکہ میں نے حقیقۃ النبوت میں ہی اس بات کو حل کر دیا ہوا ہے کہ جب تک کوئی بات منکشف نہ ہو اس وقت تک اس کے خلاف کہنا بُرا نہیں۔لیکن جب وہ کھل جائے۔پھر اس کے خلاف کہنا نادانی اور جہالت ہوسکتی ہے۔اس کے متعلق میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال بھی دی تھی چنانچہ حقیقتہ النبوت کی اصل عبارت یہ ہے کہ :- ایک بات جب تک پوشیدہ اور پردہ اخفا میں ہوا سے اصل کے خلاف ماننا ایک اور بات ہوتی ہے لیکن پردہ اٹھ جانے پر پھر بھی غلطی سے نہ ہٹنا ایک اور بات ہوتی ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ پچھلی صدیوں میں قریبا سب دُنیا کے