خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 133

خطبات محمود جلد (5) ۱۳۳ قیصر دنیاوی بادشاہ ہے اس لئے اسے سکہ کا ٹیکس دو۔اور خدا کے آگے روحانیت کا ٹیکس ادا کرو۔پھر حضرت مسیح کو گورنر کے سامنے باغی قرار دے کر پیش کیا گیا۔اس وقت جو ہمارا اختلاف ہے اس میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔گو وہ ایک چھوٹی اور قلیل جماعت ہے لیکن ہیں ضرور۔ان میں سے شائد ایسے لوگ بھی ہوں جو اپنے آپ کو حق پر سمجھ کر ہماری مخالفت کر رہے ہیں مگر اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ حق کی خاطر ایسا نہیں کر رہے۔کیونکہ اگر وہ حق کی خاطر کرتے تو جھوٹ سے کبھی کام نہ لیتے۔وہ باتیں جو قلب اور دل کے متعلق ہیں۔ان میں وہ اس لئے معذور سمجھے جاسکتے ہیں کہ شاید دشمنی اور عداوت کی وجہ سے ایک بات کو اسی رنگ میں دیکھتے ہوں جس میں کہ بیان کرتے ہیں لیکن ان کا صحیح صحیح واقعات اور کھلی کھلی باتوں کو بگاڑ کر پیش کرنا ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔اور حق کی خاطر مقابلہ نہیں کر رہے۔انہوں نے ایسے ایسے افتراء کئے ہیں کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔پچھلے سال کہا گیا کہ میں نے گورنمنٹ کولکھا ہے کہ مجھے خلیفہ مسیح تسلیم کروا دو۔میں آپ کی بہت مدد کروں گا۔جب ہماری طرف سے اس بات کی تردید کی گئی اور گورنمنٹ کی چٹھی بھی ہماری تائید میں آگئی تو ایک اور بات بنائی۔کہ گورنمنٹ ڈر گئی ہے کہ اس بات کے ظاہر ہونے سے ان میں فساد پڑ جائے گا۔اس لئے اس نے پوشیدہ رکھا ہے۔حالانکہ انہی لوگوں نے ۱۹۱۳ء کے سالانہ جلسہ پر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو کہا تھا کہ گورنمنٹ نے اپنے پاس سے تنخواہیں دے کر کچھ آدمی ہمارے درمیان اس لئے چھوڑے ہوئے ہیں کہ وہ ہم میں پھوٹ ڈلوائیں۔اور چند بے گناہ آدمیوں کے نام بھی لے دیئے تھے۔چنانچہ ۱۹۱۳ ء کے جلسہ کی تقریر میں جو چھپی ہوئی ہے حضرت خلیفہ اول نے اس طرف اشارہ بھی کیا تھا۔تو یا تو ان کا یہ خیال تھا کہ گورنمنٹ نے اپنے پاس سے روپیہ دے کر پھوٹ اور فساد ڈلوانے کے لئے لوگوں کو ہمارے درمیان چھوڑا ہوا ہے یا یہ کہ گورنمنٹ کو پھوٹ ڈلوانے کا ایسا سنہری موقع ہاتھ آیا ہے لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتی۔اور انکار کر دیتی ہے کہ ایسی کوئی درخواست وغیرہ نہیں آئی۔اسی طرح اور بہت سے جھوٹ ان کی طرف سے مشہور کئے گئے اور جب جواب دیئے گئے تو کوئی نہ کوئی حجت نکال ہی لی۔جیسا کہ میں نے ابھی ایک بات سنائی ہے