خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 96

خطبات محمود جلد (5) ۹۶ نے کہا کہ حضور اب تو بادشاہ وہاں سے روانہ ہو چکا ہے کوئی انتظام ہونا چاہئیے انہوں نے کہا۔ہنوز دتی دور است۔پھر انہوں نے جب بادشاہ دو چار منزل آ گیا عرض کیا کہ حضور اب تو دو چار منزل پر آپہنچا۔کہنے لگے۔ہنوز دلی دور است۔جب ایک منزل پر پہنچا تو لوگوں نے کہا حضور ! اب تو ایک منزل پر پہنچ چکا۔حضور کوئی انتظام فرما ئیں۔مطلب یہ کہ امراء وغیرہ سے کہہ کر معافی مانگ لیں۔انہوں نے پھر اپنے پہلے جواب کو ہی دہرایا۔ہنوز دتی دوراست۔خدا تعالیٰ نے بادشاہ کو ایسے عذاب میں گرفتار کیا کہ دتی میں داخل ہونے سے پہلے بیمار ہوا اور ان کے دریافت حال سے پہلے پہلے مر گیا۔اے جو انسان خدا کے حضور میں اپنا معاملہ ڈال دیتا ہے اس کو انسان بیچارہ کیا دُکھ دے سکتا ہے۔اور اگر منشاء الہی یہی ہو کہ اسے کچھ مشقتیں اور تکلیفیں اٹھانی پڑیں تو ان سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔دونوں بڑی بڑی رحمتوں اور انعامات کا سرچشمہ ہیں ایک انسان جان بچانے کے لئے بھاگتا ہے اور اس بھاگنے میں اسے بڑی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔پسینہ آ جاتا ہے۔ٹھوکریں کھاتا ہے۔بھوک پیاس برداشت کرتا ہے۔ایک مکان میں آگ لگ جائے تو اس وقت یہ کھڑکی سے کود پڑتا ہے جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔آگ سے بچنے کے لئے کو دنا اسے دو بھر معلوم نہیں ہوتا۔جہاں انعام ہو اس کے لئے مشقت برداشت کرنا کوئی مشکل نہیں۔پس جو خدا تعالیٰ کے انعامات کا وارث بننا چاہتا ہے تو اسے کسی کے دکھ دینے کا کیا فکر ہے چھوٹے سے چھوٹا عذاب مومن کے لئے موت ہے۔اگر دشمن اسے جانی یا مالی تکلیف دیتے ہیں تو موت تک دیتے ہیں لیکن موت کے بعد پھر تو کوئی عذاب نہیں۔صحابہ موت کو معمولی بات سمجھتے تھے۔اور یہی ان کی ترقی کا راز تھا۔ایک دفعہ ایک شخص کافروں میں سے نکلا اور اس نے بہت سارے مسلمانوں کو شہید کیا۔حضرت ضرار بن از در جو مسلمانوں میں بہت بہادر تھے اور جن کا تاریخ میں بہت ذکر آتا ہے اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور تھوڑی دیر کے بعد یہ اس کے سامنے سے بھاگے۔مسلمانوں میں بھاگنا ہوتا ہی نہیں تھا۔سب مسلمان حیران کھڑے تھے کہ ے تذکرہ اولیائے کرام 1 دبستان ص ۹۷