خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 97

خطبات محمود جلد (5) ۹۷ انہیں یہ کیا ہو گیا چنانچہ وہ اپنے خیمے میں گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے تو باقی فوج کے آدمیوں نے کہا آپ نے یہ کیسی بزدلی دکھائی۔اور اسلام کے برخلاف کام کیا کہ آپ ایک کافر کے سامنے سے بھاگے۔آپ نے کہا کہ میں اس لئے نہیں بھاگا تھا کہ مجھے جان کا خوف تھا۔بلکہ جب میں اس کافر کے مقابلہ کو نکلا تو میرے جسم پر زرہ تھی مجھے خیال ہوا کہ یہ زرہ موت کے خوف سے ہے اگر موت اس زرہ کے پہنے کے باوجود بھی آجائے۔تو اچھی بات نہیں۔کیا خدا کو میں جا کر یہ کہوں گا کہ الہی ! میں تیری ملاقات کا شائق نہ تھا جو میں نے ایک کافر کے مقابلہ میں زرہ پہن لی تھی اس لئے میں بھا گا کہ میں جلد جا کر زرہ اتار دوں۔اور پھر اس کا فر کا مقابلہ کروں تا اگر مارا جاؤں تو خدا کے حضور کہہ سکوں میں آپ کی ملاقات کا شائق تھا۔لے اسی طرح حضرت خالد موت کے وقت رونے لگے۔کسی نے کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں فرمایا میں موت سے نہیں روتا بلکہ اس لئے روتا ہوں کہ میں ہمیشہ جنگ میں اس تمنا سے شامل ہوتا رہا۔کہ اگر یہاں مارا جاؤں تو شہادت کا رتبہ پاؤں لیکن افسوس کہ آج میں بستر پر جان دے رہا ہوں۔کے الغرض مومن کے لئے موت سب سے چھوٹی تکلیف ہے۔جس کو لوگ سب سے بڑا سمجھتے ہیں۔موت تو اس پر دے کے چاک کرنے کا نام ہے جو بندے اور خدا کے درمیان ہوتا ہے۔پس جب بڑی مشقت سب سے چھوٹی نکلی تو اور عذاب اور مشقتیں کیا چیز ہیں جس سے وہ مایوس ہو جائیں۔ذلیل کرنے والے عذاب مومن پر نہیں آتے۔اور جو دکھ اسے پہنچائے جاتے ہیں وہ اس کے لئے کوئی تکلیف کا باعث نہیں ہوتے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا وہ ان کے لئے گلزار ہوگئی اور جلا نہ سکی۔خیر وہ تو خدا کے نبی تھے۔اور سلسلہ کے آخری پیغمبر تھے۔جو کبھی قتل نہیں ہوتا۔لیکن اگر کوئی اور خدا کا پیارا ہوتا اور وہ اس آگ میں جل بھی جانتا تو اس کے لئے وہ جل جانا بھی گلزار تھا۔کافر کو جو عذاب آتے ہیں وہ مایوس کرنے والے ہوتے ہیں لیکن مومن کو کوئی ایسا عذاب نہیں آتا جو مایوس کر دینے والا ہو۔ہماری جماعت کے لئے یہ بڑی قابل غور بات ہے کہ کن مصائب سے ڈر کر وہ له اصابہ جلد ۳ ص ۲۶۹ حالات ضرار بن از در۔۲۔تاریخ الخمیس جلد ۲ ص ۲۷۵