خطبات محمود (جلد 5) — Page 95
خطبات محمود جلد (5) ۹۵ ہٹنے پر از حد افسوس ہے۔ہماری جماعت کے لئے بھی یہ ایک امتحان کا موقع ہے اس کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حکم ملا۔اور وہ ایسے برگزیدہ انسان کے ذریعہ آیا۔جس کی نوع سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کے پیغمبروں نے خبر دی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے اولیاء اور خدا کے برگزیدہ انسان اس کے متعلق بیان کرتے چلے آئے تھے۔بلکہ اس کو دیکھنے کے مشتاق تھے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے وعدے کئے تھے۔پھر اس کے ساتھ وعدہ تھا۔کہ جو میرے احکام کی فرمانبرداری کریں گے وہ میرے انعامات کے وارث ہوں گے کیا ہماری جماعت نے اس بات پر غور کیا کہ کیا وہ وہ مست مشقتیں جوان انعامات کے لئے ضروری ہیں برداشت کر چکی ہے۔افسوس آتا ہے۔جب کہتے ہیں کہ گاؤں والے دُکھ دیتے ہیں کیا ایسا انسان خدا تعالیٰ کے انعام کا وارث ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان انسان کو کیا دکھ دے سکتا ہے۔فرعون بڑا مشہور اور چالاک بادشاہ تھا۔اس نے حضرت موسیٰ کے مقابلے کے لئے کچھ آدمی منتخب کئے ان کی یہ حالت تھی کہ فرعون ان کو اپنا مصاحب اور درباری بنانے کا وعدہ کرتا ہے اور ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہمیں کچھ مل جائے ان کے علم کی کمزوری ان کی جہالت کی وجہ سے بادشاہ کے درباریوں میں شامل ہو جانا کوئی چیز نہیں دو چار روپے مل جائیں۔ایسی جہالت میں پڑے ہوئے لوگوں کے سینے خدا کے پیغام کے لئے کھل جاتے ہیں۔وہی فرعون جس سے پیسے مانگتے تھے وہ اب ڈراتا ہے دھمکاتا ہے کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ دوں گا۔وہ کہتے ہیں کہ پھر ہوا کیا اسکا نتیجہ موت ہی ہوگا نہ کہ کچھ اور۔ہم خدا کے پاس ہی جائیں گے کیا خوب وہ جواب دیتے ہیں کہ تم اگر ہمیں مار دو گے تو ہمیں تو جنت مل جائے گی۔جس موت سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ تو ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھولتی ہے۔انسان کا عذاب کچھ عذاب نہیں ہوتا۔جس انسان سے انسان ڈرتا ہے۔ڈرنے والے کو کیا معلوم کہ اس کی کس وقت جان نکل جائے گی۔ایک خدا کے بزرگ تھے بادشاہ دہلی نے کہا کہ ہم سفر سے واپس آکر تمہیں مروا ڈالیں گے۔وہ سفر سے جب واپس آنے کے قریب ہوا۔تو بزرگ کے شاگردوں نے انہیں کہنا شروع کیا کہ اب تو بادشاہ آتے ہیں کوئی انتظام کرنا چاہئیے انہوں نے کہا۔ہنوز دہلی دور است۔پھر جب بادشاہ وہاں سے چل پڑا۔پھر مریدوں