خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 71

خطبات محمود جلد ۴ (IA) سال ۱۹۱۴ء ہر نئے امر کی پہلے مخالفت ہوتی ہے فرموده ۱۷۔ایریل ۱۹۱۴ ء ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی:۔وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَئِكَةِ فَقَالَ اَنْبِتُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ اِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ قَالُوا سُبْحَنَكَ لا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ۔قَالَ يَأْدَمُ انْبِتُهُم بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي اعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ اس کے بعد فرمایا:۔ہر ایک نئی بات پر ، ہر ایک نئی چیز پر ، انسان گھبرا جاتا ہے خواہ وہ کیسی ہی اچھی اور مفید کیوں نہ ہو لیکن طبیعت مضائقہ کرتی ہے کہ انسان اس کو اسی وقت مان لے۔کفار مکہ ایک پتھر کے بت کے سامنے سجدہ کرتے تھے۔رسول اللہ سایہ ایم ( جن کو وہ خود ایک صادق اور امین سمجھتے تھے ) نے جب ان کو آکر کہا کہ بت پرستی بہت بری ہے تو چونکہ ان کو ایک عادت پڑی ہوئی تھی اور مدتوں سے ایک بات ان کے دل میں بیٹھ گئی تھی جس کیلئے ان کے پاس کوئی دلیل وغیرہ نہ تھی، کوئی ثبوت اس کا نہ تھا، تو انہوں نے آپ کی بات کو نہ مانا اور اس کا انکار