خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 47

خطبات محمود جلد ۴ ۴۷ سال ۱۹۱۴ء یہ وقت ایسا ہے کہ اس وقت ہمیں گھبرا جانا چاہئیے۔میں دوستوں کو ایک بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس مصیبت کا علاج ایک ہی ہے ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَلَى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوالی۔مومن بنو احکام الہی پر عمل کرو۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قریب ہی ہوں۔دنیا کے مددگار اور دنیاوی معین و معاون تو غافل ہو جاتے ہیں۔لیکن نہ غافل ہونے والی ہستی اگر کوئی وه ہے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْم سے اُسے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔محبت کرنے والے ماں اور باپ بھی اپنے بچوں کی تیمار داری کرتے کرتے تھک جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ہستی ایسی ہستی نہیں ہے۔وہ چھکتا نہیں ہے۔ڈاکٹر اور طبیب کو بلانے کیلئے کچھ وقت صرف ہوتا ہے اور دیرلگتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو بلانے کیلئے کوئی دیر نہیں لگتی اور نہ ہی خدا کو بلانے کیلئے دوڑ و دھوپ کرنے کی ضرورت ہے۔خدا کو بلانے کیلئے تو اگر کوئی مل جُل نہیں سکتا تو لیٹ کر سہی۔اگر لیٹنے سے بھی وہ بول نہیں سکتا، ہاتھ نہیں ہلا سکتا اور اگر ہونٹ اور زبان بھی نہیں ہلا سکتا تو دل میں ہی خدا کو یاد کرے اور اس کا ذکر کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو ، تب بھی خُد اسن لے گا۔پس اگر کوئی طریق بچنے کا ہے تو وہ یہی ہے کہ انسان خدا کے حضور گر جاوے۔میں نے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار اس تھی کی نصرت اور مدد اور دعا کی قبولیت کے نظاروں کو دیکھا ہے۔میں ایک دم کیلئے بھی باور نہیں کر سکتا کہ ہماری دعاؤں کو رڈ کرے گا۔ہم میں سے کون ہے جس نے حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ المسیح علیہا السلام کی دعاؤں کی قبولیت کے آثار نہ دیکھے ہوں۔ہم میں سے ہر ایک کے اپنے نفس میں آثار قبولیت پائے جاتے ہیں۔میں نے خود ایسے ایسے نظارے دیکھے ہیں جن کے سبب سے میں پھر دعا کے منکرین کی باتوں کو قبول نہیں کر سکتا۔تین یا چار سال ہو گئے ہیں کہ قادیان میں طاعون بڑی سخت پڑی۔عصر کے وقت میں نے دیکھا کہ میری ران میں سخت درد ہو رہا ہے۔اور مجھے بخار بھی تھا۔میں کمرہ کے اندر چلا گیا اور اندر سے دروازہ بند کر کے چار پائی پر لیٹ گیا۔اور سوچنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کا تو مسیح موعود سے یہ وعدہ تھا کہ اِنِّي أَحَافِظ كُلّ مَنْ فِي الدَّارِ سے تو خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو جھٹلایا نہیں کرتا۔اور اب میں اپنے آپ میں طاعون کے آثار پاتا ہوں لیکن پھر میں نے اپنے