خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 543

خطبات محمود جلد ۴ ۵۴۳ سال ۱۹۱۵ء میں ہیں کہ اتنے لوگ کہاں سے آ جاتے ہیں مگر یہ سب خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور ہمارے لئے ایک آنے والا انسان سبق۔مگر دانا وہی ہے جو اس سے فائدہ اٹھائے بہت ہوتے ہیں جو کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔مومن کو چاہئیے کہ کبھی اندھا ہو کر نہ بیٹھے بلکہ ہر ایک بات سے نتیجہ نکالتا رہے۔اور بجائے اس کے کہ واقعات کو بطور تماشہ دیکھے اپنی روح کیلئے غذا مہیا کرے کیونکہ اگر روح کو غذا نہ دی جائے تو وہ سوکھ جاتی اور مردہ ہو جاتی ہے۔غرض جلسہ سالانہ میں بہت سی روحانی غذا ہے۔خدا تعالیٰ جن کو موقع دے گا وہ دیکھیں گے اور پھر دیکھیں گے اور نسلاً بعد نسل دیکھیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کے سلسلوں کو کوئی مٹانہیں سکتا۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم ایسی مضبوط چٹان پر کھڑے ہیں کہ ہمیں کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ہمارے دشمنوں کے پاس مال و دولت ہمت و طاقت کیا ہم سے زیادہ نہیں تھی ؟ ضرور تھی لیکن خدا تعالیٰ کا ہم پر بہت ہی فضل ہوا کہ اس نے ہمیں اس بات کی توفیق دی ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو احسان جتلاتے ہیں کہ ہم نے خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیا لیکن وہ غلطی کرتے ہیں کیونکہ ان کا کسی پر احسان نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہوتا ہے کہ انہیں حق کے قبول کرنے کی توفیق ملتی ہے۔تو بہت سے لوگ ایسے تھے جو ہم سے مال و دولت عزت و رتبہ میں بہت ہی زیادہ تھے لیکن انہیں حضرت مسیح موعود کے قبول کرنے کی توفیق نہ ملی۔پس ہمیں اپنی کسی کوشش اور محنت پر ناز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہماری کیا کوششیں ہیں۔ہم تو اپنی کوششوں کو جب خدا تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کے مقابلہ میں لاتے ہیں تو شرمندہ ہو جاتے ہیں اور یہی منہ سے نکلتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبّ العلمین سے تمام تعریفیں خدا ہی کیلئے ہیں۔لوگ کہتے احمدی بڑی دین کی خدمت کر رہے ہیں لیکن اصل میں احمدی نہیں بلکہ خدا ہی کر رہا ہے۔غیر احمدی کہتے ہیں کہ ان میں بڑا جوش ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ ہم میں یہ جوش کہاں سے آیا۔وہیں سے کہ ہمارے پیچھے پیٹھ بھرنے والا موجود ہے جو کہ بھر رہا ہے اور یہ سب فضل ہی فضل ہے۔میں نے کسی بات پر کہا تھا کہ خدا کے فضل اور کرم سے ہمیں اس قدر کامیابی ہوئی ہے۔اس پر ایک شخص نے کہا ہے کہ خدا کا فضل کیا ہوتا ہے۔دیکھو ئیں نے بازو کے زور سے تیس ہزار روپیہ چند دنوں میں جمع کر لیا ہے۔لیکن میں پھر یہی کہتا ہوں کہ ہمیں جو کچھ بھی کامیابی ہوئی ہے خدا کے فضل سے ہوئی ہے۔اس کہنے والے کا بازو فانی ہے جو ایک دن فنا ہوکر رہے گا۔اور ہم دیکھیں گے کہ اس