خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 531

خطبات محمود جلد ۴ ۵۳۱ سال ۱۹۱۵ء تو اس کیلئے محنتیں اور تکلیفیں اٹھانا کیا چیز ہیں۔اس وقت میں نے جو سورہ پڑھی ہے اس میں خدا تعالیٰ نے اسی طرف متوجہ کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ سورہ آنحضرت صلی ایتم کو مخاطب کر کے فرمائی ہے لیکن میرے نزدیک قرآن شریف کی کوئی آیت ایسی نہیں جو آنحضرت سالی ستم کو مخاطب کر کے فرمائی گئی ہو اور دوسرے لوگ بھی اس کے مخاطب نہ ہوں۔اس میں شک نہیں کہ بعض آیات ایسی ہیں کہ اگر آنحضرت سلیم مخاطب ہوں تو ان کے اور معنی ہوں گے اور اگر ہم مخاطب ہوں تو اور لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ قرآن شریف کی آیتوں کے کئی کئی معنے ہوتے ہیں۔اس وقت میری غرض اس سورہ کے وہ معنی بیان کرنا نہیں جو آنحضرت صلی ی ی یتیم کے مخاطب ہونے کی صورت میں ہیں بلکہ وہ معنے بیان کرنے کی ہیں جو ہمارے متعلق ہیں۔یہ ایک صاف بات ہے کہ وہ انسان جس کو اپنے کام اور کوشش کا نتیجہ معلوم ہو جس شوق اور محنت سے کام کرتا ہے، اس شوق اور محنت سے وہ شخص نہیں کرتا جسے کوئی امید نہ ہو۔اسی بات کو مد نظر رکھ کر خدا تعالیٰ فرماتا ہے الخ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۔اے انسان! کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سینہ کھولنے سے کیا مراد ہے۔آیا سینہ چاک کیا گیا یا کچھ اور ؟ اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں دوسری جگہ بیان فرما دیا ہے فَمَن يُرِدِ اللهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ سے پس جس کو خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہدایت دے اس کا سینہ اسلام کیلئے کھول دیتا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام کو قبول کرنے کی توفیق کے معنے سینہ کھولنے کے ہیں۔تو اسلام کیلئے سینہ کا کھلنا شرح صدر ہے اب سوال ہوتا ہے کہ اسلام کو قبول کرنے کا نام کیوں شرح صدر رکھا گیا ہے۔اور دوسرے مذاہب بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارا دین طمانیت دینے والا مذہب ہے۔اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنے اپنے مذہب پر پورا اطمینان رکھتے ہیں اس لئے ان مذاہب کے متعلق بھی کیوں نہ یہی کہا جائے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ صرف اسلام کیلئے استعمال ہو سکتا ہے اور اسلام نے ہی کیا ہے اور اس میں بہت بڑی حکمت ہے کہ گوی عرفا ہم دوسرے مذاہب کیلئے بھی شرح صدر کا لفظ بول سکتے ہیں لیکن اصل میں صرف اسلام ہی اس کا مصداق ہے کیونکہ دوسرے مذاہب والے لوگ اپنے مذہب کے سچا ہونے کے متعلق دلیل کوئی نہیں رکھتے بلکہ وراثنا اس پر شرح صدر رکھتے ہیں اور اسلام اپنے ساتھ دلائل رکھتا ہے، کوئی بات رسمی طور