خطبات محمود (جلد 4) — Page 530
خطبات محمود جلد ۴ ۵۳۰ سال ۱۹۱۵ء ہیں ، روپیہ بے انتہا خرچ کیا جا رہا ہے، وقت خرچ کیا جا رہا ہے۔پھر فتح جس کی قسمت میں ہوگی اس کو حاصل ہوگی۔مگر دیکھتے ہو محنت کس قدر ہو رہی ہے کتنے ہی ایسے گھر ہیں جنہوں نے اس آزادی کیلئے تلوار اٹھائی لیکن سب مارے گئے اور اب ان گھروں میں کوئی مرد نہیں۔اخبارات میں اس قسم کے حالات چھپتے رہتے ہیں کہ فلاں کے گھر میں سات مرد تھے ساتوں جنگ میں مارے گئے۔لیکن اس طرح مرنے سے کمی نہیں آتی بلکہ ان کی جگہ اور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک مر کر گرتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ کھڑا ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ اپنی قوم کی عزت اور آزادی برقرار رہے۔غرض کوئی چیز ایسی نہیں جو بغیر محنت کے حاصل ہو۔پانی اور کھانے سے لے کر بڑی سے بڑی حکومت تک کے تمام کے تمام مقاصد ایسے ہیں جو محنت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے پھر کون نادان ہے جو یہ کہے یا سمجھے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق گھر بیٹھے بغیر محنت اور کوشش کے ہو جائے جبکہ علم ، دولت ، عہدہ ، رتبہ، روٹی ، پانی خود بخود حاصل نہیں ہوتے۔بلکہ ان کیلئے محنت کرنی پڑتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ سے تعلق کس طرح بغیر کوشش کے ہو سکتا ہے اس کیلئے تو بڑی بڑی قربانیاں اور منتیں کرنی پڑتی ہیں تب انسان کامیاب ہوتا ہے لیکن یہ محنتیں اور کوششیں اس کامیابی کے سامنے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے حاصل ہوتی ہیں کچھ بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں مجھے اخباروں میں اس قسم کی باتیں دیکھ کر حیرت ہوا کرتی ہے کہ فلاں مقام پر اتنے سو گز زمین حاصل کرنے کیلئے اتنے آدمی مارے گئے ہیں اور پھر ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ اس قربانی کے مقابلہ میں ہمیں فائدہ بہت زیادہ ہوا ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ جب انعام بڑا ہو تو اس کے کے حصول کیلئے خواہ کتنی ہی محنت اور مشقت کیوں نہ برداشت کرنی پڑے، اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔دیکھو علم کے پڑھنے میں کتنا روپیہ اور وقت صرف کیا جاتا ہے۔اور کس قدر محنت کرنی پڑتی ہے لیکن کیا کبھی کسی نے علم پڑھنا اس لئے بھی چھوڑ دیا ہے کہ اس کیلئے روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے یا محنت کرنی پڑتی ہے ہر گز نہیں کیوں اس لئے کہ اس روپیہ اور محنت کے بعد جو چیز ملتی ہے وہ بہت بیش قیمت ہے اور جہاں انعام بڑا ہوتا ہے وہاں قربانی بھی بڑی کرنی پڑتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ جہاں انعام بڑا ہو اس کیلئے جو قربانی کی جاتی ہے اس کو بے حقیقت سمجھا جاتا ہے۔لیکن کوئی یہ خیال نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ جو خالق ہے مالک ہے رازق ہے وہ مل جائے کی