خطبات محمود (جلد 4) — Page 529
خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۹ سال ۱۹۱۵ء دیکھتے ہیں کہ وہ چیزیں جن کا انسان ہر وقت محتاج ہے مگر کچھ عرصہ کیلئے صبر بھی کر سکتا ہے۔ان کیلئے یہ شرط خدا تعالیٰ نے لگا دی ہے کہ وہ بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوسکتیں، دوسری چیزوں کا تو ٹھکانہ ہی نہیں۔یہی دیکھ لو کہ لڑکے جب باہر بیر کھانے کیلئے جاتے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بیروں کی خاطر جھاڑیوں کے کانٹوں سے ان کے ہاتھ لہولہان ہو جاتے ہیں اور ایک بیر کی خاطر کانٹوں میں ہاتھ ڈالتے اور چن کر نکالتے ہیں۔خون بہہ رہا ہے مگر وہ بڑے خوش ہوتے اور کہتے ہیں کیا مزے کا بیر ہے اور کیسا میٹھا ہے۔یہ تو بچوں کی مثال ہے اگر اس سے آگے چلو تو جتنا بڑا کسی کا مدعا پاؤ گے اتنی ہی بڑی اسے محنت اور مشقت کرتے بھی دیکھو گے۔طالب علموں کی پڑھائی کو ہی لے لو۔لڑکے پڑھائی میں محنت کرنا بہت ضروری اور لابدی سمجھتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے حاصل کر لینے سے زندگی آرام اور آسائش سے گذرے گی۔تو طالب علم علم کے حصول کیلئے بہت ہی محنتیں کرتے ہیں۔بلکہ بعض تو مسلول ہو کر مر بھی جاتے ہیں ان کو اپنا مدعا ابھی حاصل بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس کے حصول میں اپنی جان بھی دے دیتے۔ہیں۔پھر جو اپنے مدعا کو پہنچتے ہیں وہ بہت نفس کشی اور محنت کے بعد پہنچتے ہیں۔گویا ہر روز مر کر علم حاصل کرتے ہیں یہ کبھی نہیں ہوگا کہ کوئی انسان علم کے سیکھنے کیلئے نہ محنت کرے اور نہ کوشش لیکن سوتا ہوا اٹھے تو سب علموں سے واقف ہو جائے یا گھر بیٹھا رہے اور مدرسہ میں نہ جائے تو عالم بن جائے اور اسے سارے علوم آجائیں۔پھر اس موجودہ جنگ کو ہی دیکھ لو کہ اس میں کس قدر خونریزی ہو رہی ہے۔ہزار ہانی انسان فنا ہو رہا ہے اور کروڑوں کا گولہ بارود خرچ ہو رہا ہے۔اور دیگر اخراجات اس قدر ہیں کہ ایک دن میں ایک ایک سلطنت کا اتنا خرچ اُٹھ جاتا ہے جتنی بڑی بڑی ریاستوں بلکہ حکومتوں کی سالانہ آمدنی ہوتی ہے۔فقط ایک سلطنت برطانیہ نے اعلان کیا تھا کہ چار گھنٹے کی جنگ میں جو صرف پچاس گز زمین حاصل کرنے کیلئے تھی اس قدر گولہ بارود خرچ ہوا ہے کہ جتنا ٹرانسوال ۲ کی اڑھائی سال کی لڑائی میں خرچ ہوا تھا۔تو اس جنگ میں جو گولہ بارود استعمال ہو رہا ہے اس کے ایک ایک گولے کی قیمت پندرہ پندرہ سو روپیہ ہوتی ہے۔پھر ایسے گولے برسات کی طرح دشمن کی فوج پر پڑتے ہیں اس سے حساب کرلو کہ کس قدر روزانہ خرچ صرف گولہ بارود پر ہوتا ہے لیکن جانتے ہو اس قدر خرچ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہر ایک سلطنت یہ کہتی ہے کہ ہماری قوم کی آزادی نہ چھن جائے۔اس غرض کیلئے خون کے دریا بہائے جار ہے