خطبات محمود (جلد 4) — Page 526
خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۶ سال ۱۹۱۵ ہے جن کے ہم مرتکب نہیں۔لیکن وہ شخص جو بلا وجہ اور بغیر دیکھنے غلطی کے اور ہی اعتراض کرتا اور الزام دیتا ہے خدا تعالیٰ اسے ضرور پکڑے گا کیونکہ وہ ہمیں ایسا الزام دیتا ہے جن کے ہم مرتکب نہیں۔پس یہ لوگ ایسے الزام دے کر اور بُرے اعتراض کر کے در حقیقت اپنی ہلاکت کا سامان مہیا کر رہے ہیں۔وہ شخص جو چوری نہیں کرتا اور کسی ایسے فعل کی وجہ سے جیل خانہ میں بھیج دیا جاتا ہے جو اس نے کیا نہیں اور اس کے دوست بھی جانتے ہیں کہ اس نے یہ جرم تو نہیں کیا وہ اس پر بدظنی نہیں کرتے ایسا شخص جیل خانہ میں جانے سے خوش ہوتا ہے کہ جس جُرم کی وجہ سے میں جیل خانہ میں آیا ہوں وہ میں نے نہیں کیا۔اور در پردہ جس غلطی کی سزا اسے مل رہی ہے وہ دشمن پر مخفی کر دی گئی ہے اور ایسے فعل کو اس کی طرف منسوب کر دیا ہے جو اس نے کیا نہیں مگر اس پر الزام دینے والا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا مجرم ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ایسے مفسد اور مصلح کبھی برابر ہو سکتے ہیں؟ ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَفَنَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ الفجار کیا ہم متقیوں اور فاجروں کو برابر کر دیں گے؟ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ دونوں برابر ہوں ایسے لوگ کبھی خدا تعالیٰ کی پکڑ سے چھوٹ نہیں سکتے وہ ضرور ایسے لوگوں کو سزا دے گا۔خدا تعالیٰ دونوں فریقوں کے ساتھ ایک ہی قسم کا معاملہ نہیں کرتا فریق مخالف تو اپنی تباہی کے بواعث خود ہی پیدا کر رہا ہے۔ہر ایک وہ چیز جس کے ذریعہ سے انسان خدا تعالیٰ کے راستے سے دور ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ہمیں بچاوے۔آمین ا ص: ۲۸ تا ۳۰ الفضل ۱۸۔اگست ۱۹۶۵ء)