خطبات محمود (جلد 4) — Page 517
خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۷ سال ۱۹۱۵ء ہے کہ مجھے خیال آیا کہ میں اب بھی جا کر عذر کروں لیکن میرے دل میں آیا کہ پوچھوں تو سہی کہ میرے سوا کسی اور نے بھی اپنی غلطی کا اقرار کیا ہے۔جب پوچھا تو دو اور شخص معلوم ہوئے وہ کہتا ہے کہ صرف وہ دو ہی شخص مسلمان تھے باقی کو ہم جانتے تھے کہ منافق ہیں۔پس میں نے منافقوں میں شامل ہونا نہ چاہا۔ان تینوں کے متعلق رسول کریم مان لیا کہ تم نے حکم دیا کہ کوئی ان سے کلام نہ کرے۔پھر کچھ دنوں بعد بیویوں سے جُدا رہنے کا بھی حکم دے دیا۔وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ میرا ایک چا کا بیٹا تھا۔ایک دن تنگ ہوکر میں اس کے پاس گیا اور کہا کہ تم خوب جانتے ہو کہ میرا کوئی قصور نہیں ، صرف سستی کا یہ نتیجہ ہے۔اس پر اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا اللہ اور اس کا رسول اچھی طرح جانتے ہیں اور اس کے سوا کوئی ہے جواب نہ دیا۔اس پر میں وہاں سے چلا آیا۔راستہ میں ایک عیسائی بادشاہ کا خط کسی نے مجھے دیا جس میں لکھا تھا کہ سنا ہے کہ تیرے ساتھ محمد سلایا کہ ہم نے بہت بُرا سلوک کیا ہے۔ہمیں سن کر بہت افسوس ہوا ہے تو بہت بڑا آدمی ہے تو ہمارے پاس آجا ہم تیری عزت کریں گے۔میں نے سمجھا کہ یہ شیطان کا حربہ ہے جو اپیچی خط لے کر آیا تھا اس کے سامنے ہی خط کو پھاڑ کر آگ میں ڈال دیا اور اس کو کہا میری طرف سے یہی جواب ہے اس شخص اور اس کے ساتھیوں کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے وَضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بما رحبت کہ زمین با وجود فراخ ہونے کے ان پر تنگ ہو گئی۔لیکن باوجود اس ابتلاء اور اتنی بڑی مصیبت کے اس شخص کو بھی کس قدر عشق تھا کہ اسکے دل پر ذرہ بھی میل نہیں آئی بلکہ اس کی محبت کا حال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیان کرتا ہے انہی ناراضگی کے ایام میں میں آنحضرت سلام کے پاس جاتا السّلامُ عَلَيْكُمْ کہ کر بیٹھ جاتا اور پھر آپ کے منہ کی طرف دیکھتا کہ کیا آپ سلام کا جواب دیتے ہیں یا نہیں جب آپ کا دہن مبارک ہلتا نہ دیکھتا تو خیال کرتا کہ شاید میں دیکھ نہیں سکا آپ نے اپنے منہ میں جواب دے دیا ہوگا اور اپنے دل کی تسلی کیلئے پھر اٹھ کر مجلس سے چلا جاتا اور پھر واپس آکر سلام کہتا اور اسی طرح بار بار کرتا رہاہے۔یہ تو ایک مثال ہے صحابہ میں اس کی بہت نظیریں موجود ہیں۔اگر وہ لوگ بھی ہماری طرح ہی ذرہ ذرہ سی باتوں کو ابتلاء خیال کرتے تو کیسے کامیاب ہوتے۔غرض ان لوگوں نے اپنے وطن، دوست ، بال بچے ، عزیز و اقارب کو چھوڑا اور خدا کے قریب ہوئے۔سچی دوستی اور محبت اور کامل ایمان کا پتہ مصیبت کے وقت ہی لگتا ہے۔مصیبت کے وقت ساتھ دینے