خطبات محمود (جلد 4) — Page 518
خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۸ سال ۱۹۱۵ء والے ہی سچے دوست ہوتے ہیں۔آرام کے وقت میں تو ہر ایک دوست بن جاتا ہے۔پس تمہیں بھی چاہئیے کہ ہر ابتلاء کے وقت تم دیکھو کہ آیا ہمارے ایمان تو ڈگمگا نہیں گئے اگر تمہارے ایمانوں کو ذرہ ذرہ مصیبتوں اور ابتلاؤں کے وقت میں پھسل جانے کا ڈر ہے تو تم خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھاؤ اور اپنے ایمانوں کو کامل کرنے کی کوشش کرو۔کامل ایمان اسی شخص کا ہے جو ابتلاءاور مصیبت کے وقت اپنے ایمان میں ذرا جنبش نہیں دیکھتا۔بچے تعلق اور رشتہ کا پتہ تو اس وقت لگتا ہے جب کہ مصیبت آئے ورنہ آرام اور آسائش میں تو بد معاش اور شریر بھی خدا تعالیٰ سے بڑی عقیدت اور تعلق ظاہر کرتے ہیں مگر ان کے تعلق اور محبت اور کامل ایمان کا تو اسی وقت پتہ لگتا ہے جبکہ مصیبت اور ابتلاء آئے۔اس آیت میں فرمایا کہ جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے تی ایسا کمزور ہے وہ تو کھلے گھاٹے میں ہے۔وہ کبھی کامیاب اور مظفر و منصور نہیں ہوسکتا۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ اپنے اندر ایسا ایمان پیدا کریں اور ذرہ ذرہ سی باتوں پر ابتلاء کا لفظ استعمال نہ کیا کریں۔اگر روٹی نہ ملی تو کہ دیا کہ ابتلاء آ گیا یا کوئی اور چھوٹی سی تکلیف آگئی تو کہ دیا ابتلاء آیا۔صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں تو تلوار چلتی تھی اور ابتلاء کا لفظ بھی زبان پر نہ لاتے تھے تم اپنے حوصلوں کو وسیع کرو۔ایسے کامل ایمان کے لوگ بھی خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری جماعت میں موجود ہیں جن سے بیویاں چھن گئیں ، مکانات چھن گئے ،عزتیں جاتی رہیں، بچوں کو سکولوں سے روک دیا گیا اور طرح طرح کی اذیتیں ان کو دی گئیں مگر انہوں نے کبھی ابتلاء کا لفظ استعمال نہیں کیا۔دیکھو شاہزادہ عبد اللطیف صاحب کو کیسی تکالیف دی گئیں مگر انہوں نے کبھی اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ مجھے ابتلاء پیش آیا ہے۔جو شخص شہزادہ عبداللطیف کے واقعات کو پیش نظر رکھے گا وہ ضرور فائدہ اٹھائے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ابتلاء کا لفظ استعمال کیا ہے لیکن جانتے ہو؟ وہ کیا ابتلاء تھا۔آپ کے ابتلاؤں میں سے ایک تو ظاہر ہے یہ تھا کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے بچہ کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیں لیکن وہ بلا کسی غذر کے ایسا کرنے پر تیار ہو گئے آخر اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات کے وارث ہوئے۔پس ذراذراسی باتوں پر ابتلاء کا لفظ بولنا ایمان کی کمزوری کا ثبوت ہے۔بہت کم ہیں جنہیں ابتلاء آئے ہیں۔ابتلاء کوئی چھوٹا سا لفظ نہیں۔ابتلاء تو ایمان کی آزمائش کیلئے ہوتا ہے۔گورنمنٹ بھی اپنے خادموں کی لیاقت ظاہر کرنے کیلئے ان کا امتحان لیتی ہے۔ان ابتلاؤں سے