خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 505

خطبات محمود جلد ۴ (91) خدا اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزاء بہت بڑا جرم ہے (فرموده ۱۹۔نومبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات پڑھ کر فرمایا:۔يَحْذَرُ الْمُنْفِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمُ سُوْرَةٌ تُنَبّههم بما في قُلُوعِهم « قُلِ اسْتَهْزِءُوا اِنَّ اللهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ وَلَئِن سَأَلْعَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللهِ وَايْتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ۔لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إيْمَانِكُمْ ، اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جو اصول کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ایک فروعات سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض گناہ اس قسم کے ہیں جو اپنے اندر ایک اہمیت تو رکھتے ہیں لیکن ان کا مرتکب جب تک انہی کے دائرہ اور حلقہ میں رہتا ہے سلب ایمان اور دل کو سیاہ کرنے کا باعث نہیں ہوتا اور اس کا ضرر اور نقصان محدود ہی رہتا ہے۔لیکن بعض گناہ اس قسم کے ہوتے ہیں جو بظاہر بہت ہی چھوٹے اور حقیر معلوم ہوتے ہیں مگر ان کا انجام اور نتیجہ نہایت ہی خطرناک ہوتا ہے۔وہ انسان کے دل کو سیاہ کر دیتے ہیں حتی کہ سلب ایمان کا باعث ہو جاتے ہیں۔ایسے گناہ کو جب تک جڑ سے ہی نہ کاٹ دیا جائے اس کی اصلاح بہت دشوار ہو جاتی ہے۔اور پھر انسان سے اس کا نکلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اس لئے مومن کو چاہئیے کہ ایسے گناہوں کی اصلاح ابتداء ہی سے کرے ورنہ بڑھ جائیں گے اور دل کو سیاہ