خطبات محمود (جلد 4) — Page 506
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء کر دیں گے اور غفلت دن بدن ترقی کرتی چلی جائے گی۔دیکھو بعض درخت اس قسم کے ہیں جن کے بیج اور گٹھلیاں تو بڑی ہوتی ہیں مگر ان کا درخت چھوٹا ہوتا ہے۔اور بعض درخت ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا بیج تو بہت چھوٹا ہوتا ہے مگر ان کا درخت بہت ہی بڑا ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض چیزیں جنہیں انسان حقیر اور ضعیف سمجھتا ہے نتیجہ میں بہت بڑی ہوتی ہے ہیں۔اس لئے ایسے گناہ کی اصلاح جس قدر جلدی ہو سکے کرنی چاہئیے اور غفلت سے کام نہیں لینا چاہیئے۔اور اگر ایسے گناہ کی اصلاح ابتداء ہی نہ کی جائے تو رفتہ رفتہ وہ غالب آجائے گا۔اور اس کے غالب آنے کے بعد اس کو مغلوب کرنا مشکل ہو جائے گا۔پس مومن کو ایسے گناہوں سے بہت ڈرنا اور ہوشیاری سے کام لینا چاہئے۔اور اس کی اصلاح کیلئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہیئے۔ورنہ جب اس کا درخت مضبوط ہو جائے گا پھر اس کا اکھیڑ نا بہت دشوار ہوگا۔ان گناہوں میں سے جو بظاہر خفیف اور ہلکے معلوم ہوتے ہیں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی آیات کے ساتھ استہزاء اور ہنسی ٹھٹھا کیا جائے۔بعض آدمیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اس بات کی چنداں پرواہ نہیں کرتے اور اس گستاخی اور بے ادبی سے انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کو بے ایمان اور رسوا کر کے تباہ کر دیتا ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الاول عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ " پر کچھ سنا رہے تھے تو فرمانے لگے کوئی استاد تھا اس نے اپنے شاگردوں کو کہا کہ فلاں جگہ قرآن مجید رکھا ہے وہاں سے اتار لاؤ۔جب اس نے پکڑ کر اُتارا تو اس قرآن پر کچھ مٹی وغیرہ پڑ گئی تھی وہ مٹی اس استاد پر گر گئی۔اس وقت اس کے استاد نے آیت لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَاباً پڑھ دی۔اس کا شاگر د بھی بڑا ہوشیار تھا اس نے جھٹ پڑھ دیا وَ يَقُولُ الْكَافِرُ يُلَيْتَنِي كُنْتُ تُرَاباس ایسے موقعہ پر استاد کا اس آیت کریمہ کو پڑھنا بالکل بے عمل تھا۔وہ وقت جب کہ انسان خدائے ذوالجلال کے پاس کھڑا تھر تھرائے گا اور اسے بات کرنے کی بھی جرأت نہ ہوگی اور تمام اعمال حبط نظر آئیں گے اور خوف کے مارے انسان کا دل کا نپتا ہوگا۔اور عذاب الہی سے بچنے کی کوئی راہ نظر نہ آئے گی اور جس وقت کہ تمام خوشامد میں اور راحتیں اس کی نظر میں بیچ ہو جائیں گی اور جس وقت کہ انسان اپنی بدیوں کو دیکھ کر اندر ہی اندر گھلتا جائے گا اور شرم کے مارے آنکھ نہیں اٹھا سکے گا، اس وقت تو لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا کہنا موزون اور برمحل ہو سکتا ہے لیکن اس مٹی کے گرنے پر اس آیت کو پڑھنا قرآن کریم کی آیات کے