خطبات محمود (جلد 4) — Page 477
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ بعد غیر مبائعین کم ہوتے گئے اور مبائعین بڑھتے گئے۔ليُمَةِ قَنَّهُمْ کے یہی معنے ہیں کہ ان کی جماعت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور وہ کٹ کر ہم میں شامل ہو جائیں گے۔جو الہام پورا ہو چکا ہے اس کی تصدیق کی بجائے اس پر اعتراض تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ کی تصدیق ہے۔یہ اعتراض تو وہ کرتے ہی رہیں گے۔ہماری جماعت کیلئے ضرورت ہے کہ وہ اپنے تبلیغی کاموں میں جو اصل مقصد ہے اس سلسلہ کا لگ جائے اور مصروف رہے اور اس میں جو روک ڈالتے ہیں ان کیلئے خدا کی جناب میں فریاد کریں۔ایک قصہ لکھا ہے۔کسی بزرگ نے اپنے شاگرد سے پوچھا۔تمہارے علاقہ میں شیطان ہوتا ہے اس نے کہا ہوتا ہے۔پوچھا اس سے پیچھا چھڑانے کیلئے کیا کرو گے۔عرض کیا اس کو دھتکاروں گا۔فرمایا اگر پھر بھی وہ پیچھا نہ چھوڑے۔عرض کیا کہ پھر ایسا ہی کروں گا۔فرمایا اگر پھر بھی وہ ایسا ہی کرے۔اس پر وہ شاگرد خاموش ہو گیا۔اس بزرگ نے تمثیل میں سمجھایا کہ دیکھو تم کسی دوست کو ملنے جاؤ اور اس کا کتا تمہیں کاٹنے کیلئے حملہ کرے تو کیا کرو گے اس نے کہا اسے دھتکار دوں گا۔فرمایا اگر پھر بھی وہ حملہ سے باز نہ آئے عرض کیا کہ پھر میں اسے ماروں گا۔فرمایا اگر پھر بھی تمہاری ایڑی نہ چھوڑے۔عرض کیا کہ پھر میں گھر کے مالک کو پکاروں گا اور وہ مجھے اس سے چھڑائے گا۔اس بزرگ نے کہا کہ بس یہی شیطان سے پیچھا چھڑانے کا گر ہے۔جب تم اپنی کوشش سے کچھ نہ کر سکو تو اس دنیا کے مالک الله جَشَانُهُ) کو پکارو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچالے۔پس ہم بھی جب تبلیغ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اپنے کام میں لگتے ہیں تو پیچھے سے ہماری ایڑیاں پکڑنے والے ( ایسا کہنے میں۔میں اس لئے حرج نہیں دیکھتا کہ ان کے بڑے نے میرے مخلصین کو اِن تَحْمِلُ عَلَيْهِ يَلْهَت' کہہ کر صاف الفاظ میں کہتے کہا ہے ) آجاتے ہیں اور ہمیں اپنی طرف متوجہ کر کے اصل مقصد میں روک ڈالتے ہیں۔اس کا علاج یہی ہے کہ گھر کے مالک سے سلسلہ کے خالق سے فریاد کی جائے اور اسے آواز دی جائے کہ تو آپ ان کیلئے کافی ہوا اور ہمیں اپنے دین کی خدمت کیلئے فارغ کر دے۔تمہارے لئے بہت بڑا کام ہے ساری دنیا کو توحید کے مرکز پر لانا ہے اور دین اسلام سمجھانا ہے۔پس تم ہمہ تن اس اہم کام میں لگ جاؤ اور دعائیں کرتے رہو۔ہماری جماعت میں اب تک یہ بات پیدا نہیں ہوئی کہ وہ جس کام میں لگیں اس پر جم جائیں۔میں دیکھتا ہوں کہ