خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 476

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵؛ حق کی تائید میں فوری نشان دکھاتا ہے۔پس فرق ہے اس عام لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ اور اس خاص موقع پر لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِ بین کہلانے میں۔کیونکہ اس عام وعید کے مطابق جو نشان ظاہر ہو وہ مخالفین پر مجتت ملزمہ ہو کر اس خاص بندے کی صداقت کو ایسا ثابت نہیں کرتا کہ وہ اس کے قائل ہی ہو جائیں اور اس طرح پر جب پہلے اپنے بندے کے منہ سے یہ فقرہ نکلواتا ہے اور پھر اس کا دشمن تباہ ہوتا ہے تو اس بندے کی صداقت خاص طور پر ثابت ہوتی ہے۔اگر جھوٹے کی تباہی خود بخود ہو جاتی ہے اور اس کیلئے کسی مباہلہ کی ضرورت نہیں تو پھر انسان دعا بھی نہ کرے محض اس لئے کہ کیا خداد یکھتا نہیں۔پھر نماز کی بھی ضرورت نہ ہوگی محض اس لئے کہ وہ دلوں کی عاجزی کو خوب دیکھتا ہے۔دیکھوخدا نے فرمایا لعنت الله عَلَى الكَاذِبِينَ پھر باوجود اس کے آنحضرت سلیم کی زبان سے یہ فقرہ نکلوایا۔پھر مسیح موعود سے یہ فقرہ کہلوایا یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ بندوں کا کہنا بھی ایک اثر رکھتا ہے۔جب ظلم رسیدہ پکارتا ہے تو وہ اس کی سنتا ہے اور اس کے دشمنوں کو فوری تباہی کا شکار بنا تا ہے۔غرض یہ بات جو کہی گئی ہے تو مباہلہ سے بھاگنے کا ایک بہانہ ہے۔ان کا دل خوب جانتا ہے کہ اگر مقابلہ میں آئے تو وہ ضرور ہلاک ہوں گے۔پس وہ عذر تراشتے ہیں اور اب کہتے ہیں کہ یہ پیر کا بیٹا ہے اس لئے ہم مباہلہ نہیں کرتے ہیں۔کیا خواجہ کمال الدین نے مجھے کافر اور یزید بنایا تو اس وقت میں پیر کا بیٹا نہیں تھا۔پھر پیغام میں لکھا گیا ہے کہ کیا مسلمانوں کو کافر کہہ کر کافر بن جانے والے کی بیعت جائز ہے۔یوں مجھے کفر کا مرکز ٹھہرایا۔پھر مجھے جھوٹا اور شرک کا بانی کہا گیا۔کا ذب تو بہت سے کافروں اور مشرکوں سے ادنیٰ ہوتا ہے۔جب کفر و شرک کی لعنت میرے سر پر ڈالنے کیلئے تیار ہوتے ہیں اس وقت تو یہ تعلق ان کو بھول جاتا ہے مگر مباہلہ کے وقت یہ تعلق یاد آجاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے حق کا رعب ان کے دلوں میں ڈال دیا ہے ان کے دل خوب سمجھتے ہیں کہ سامنے آئے اور ہمارے جھوٹے دعوؤں کی سزا ہم کو ملی۔پانچویں بات یہ لکھی ہے کہ ہم نے ابھی مخالفت نہیں کی تھی اور ہمارے لئے ليُمَةِ قَتَهُمْ کا الہام پورا ہو گیا۔میں کہتا ہوں جس طرح حضرت صاحب کو ابتداء ہی میں یہ الہام ہو گیا ” بڑے زور آور حملوں سے اسی طرح مجھے بھی خدا نے خبر دی۔جیسا حضرت کے الہام کے بعد غیر احمدی کم ہوتے گئے اور احمدی بڑھتے گئے اسی طرح میرے الہام کے کی