خطبات محمود (جلد 4) — Page 471
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء کیوں ہوا۔ہاں مامور اور غیر مامور کی رؤیا میں ایک فرق تو ضرور ہے۔مامور اور نبی کی رؤیا تمام دنیا پر حجت ہے اور غیر مامور کی رؤیا اس کے نفس کے یقین دلانے کیلئے ہے اور دوسروں پر حجت نہیں ہوتی جب تک واقعات تصدیق نہ کریں۔جب عملاً تصدیق ہو جائے تو پھر تو ایک غیر مامور مومن کی بلکہ ایک کافر کی رؤیا کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔خدا نے فرعون اور یوسف کے ساتھیوں کی رؤیا کی تصدیق کی ہے۔ایک مامور کی رؤیا اور اس کے الہامات اس کے دعوی کی صداقت پر اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر دنیا تے کیلئے ثبوت ہوتے ہیں تا وہ اس کی بات کو، اس کی ہدایت کو ر ڈ نہ کریں۔اور دوسرے ہر انسان کی رؤیا اس واقعہ میں جو پورا ہو جائے اس کی صداقت کی دلیل ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص کو خواب آیا کہ اس کے گھر میں بیٹا ہوگا یا خطر ناک مصیبت سے رہائی کی بشارت ہو تو پھر جب اس کے گھر میں بیٹا ہو یا وہ حسب رؤیا ر ہائی پا جائے تو اس واقعہ خاص میں اس کی تصدیق کرنی پڑے گی اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ جھوٹا ہے۔اسی طرح ایک مومن کو اگر خدا کی طرف سے کوئی مسئلہ سمجھایا جائے تو اس کے نفس کی تسلی کیلئے ایک حجت ہے۔پس میں نے جب کبھی رو یا بیان کی تو یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ میرے دل کو تسلی ہے۔مثلاً جلسہ سالانہ پر اور بعض اوقات میں ، میں نے اپنے خواب خلافت کے متعلق بیان کئے کہ دیکھو یہ خواب پورے ہوئے۔اس وجہ سے میں اس جھگڑے میں نہیں گھبرایا کیونکہ میرے مولیٰ کی دی ہوئی تسلی میرے ساتھ تھی۔میں نے یہ نہیں کہا کہ لوگو! تم مجھے خلیفہ مان لو کیونکہ میں نے خواب دیکھا ہے لیکن جب وہ خواب پورا ہو گیا اور عملاً اس کی تصدیق ہوئی تو پھر لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ مانیں جبکہ اس کے ساتھ قرآن و حدیث و کتب حضرت مسیح موعود کے دلائل بھی ہیں۔حضرت صاحب نے خوابوں کے تین اقسام لکھے ہیں مگر یہ بھی نہیں فرمایا کہ جب رؤیا میں تسلی دی جائے غیر مامور کو، تو وہ نہ مانے لَهُمُ البشری تو بتاتا ہے کہ تسلی کی باتیں مؤمن پر نازل ہوں گی اگر جس پر نازل ہوئی ہیں وہی یقین نہ کرے گا پھر ان کا نزول فضول ہے یہ رویا اولاً میری تسلی و اطمینان و استقامت کیلئے ہیں اور پورا ہو جانے پر دوسروں پر بھی مجت ہیں۔میں نے رؤیا دیکھنے کے ساتھ ہی کبھی نہیں کہا کہ اسے مان لو۔کیونکہ ایسا کہنا ما موروں کی شان ہے۔