خطبات محمود (جلد 4) — Page 470
خطبات محمود جلد ۴ ۴۷۰ سال ۱۹۱۵ء اس کی طرف سے ہم سے بھی یہی سلوک کیا جا رہا ہے۔اگر کوئی ایسی دلیل ان کے سامنے بیان کی جائے جو حضرت مسیح موعود کی صداقت ثابت کرنے والی ہو تو کہتے ہیں کیا تمہاری بھی کوئی حیثیت ہے تم اپنے تئیں مامور اور نبی کی پوزیشن میں ظاہر کرتے ہو۔تھوڑی مدت ہوئی میں نے بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رویا میں مجھے مسئلہ نبوت سمجھایا اور کی آنحضرت صلی اسلم اور مسیح موعود کو بطور مثال نمونہ نبی بتایا۔میں نے اس رؤیا کو اس رنگ میں نہیں پیش کیا کہ چونکہ میں نے یہ رویا دیکھا ہے اس لئے تمام دنیا مان لے بلکہ میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ میرے مرید ہی مان لیں۔میں نے تو اس رنگ میں بیان کیا کہ قرآن مجید، احادیث صحیحہ تعلیم مسیح موعود کے بعد یہ رویا بھی میری ذاتی تسلی اور اطمینان قلبی کیلئے کافی ہے اور چونکہ مجھے کا فرتو قرار دیاہی گیا ہے اس لئے میں ملب قلب اور اطمینان کی بناء پر جو مجھے خدائے تعالیٰ سے حاصل ہے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔اس کا مجھے جواب دیا جاتا ہے کہ کیا تم مامور ہو جو اپنی رؤیا پیش کرتے ہو؟ انہوں نے نادانی سے سمجھا نہیں۔ہر انسان کی تسلی کیلئے خدا کی طرف سے ہدایت ملتی ہے جس پر فضل کرے اسے کسی حقیقت حال کا علم دے دیتا ہے پس اگر کسی کو ہدایت ملے تو وہ اسے ترک نہیں کر سکتا محض اس لئے کہ وہ مامور نہیں۔آنحضرت صلی ایم کو تو رؤیا کا ادب یہاں تک ملحوظ تھا کہ ایک شخص نے رویا میں دیکھا کہ میں آپ پر چڑھتا ہوں تو فرمایا کہ تم اپنی خواب پوری کر لوں کیا وہ مامور تھا ؟ کیا وہ نبی تھا جو اس کی رؤیا کو اتنی اہمیت دی گئی۔پھر اذان بھی ایک غیر مامور کی رویا پر مقرر ہوئی ۳ جس پر تیرہ سو سال سے تمام فرقہ ہائے اسلام کا عمل ہے۔اس میں شک نہیں کہ غیر مامور کی رؤیا کو تمام کیلئے حجت قرار دینا موجب فتنہ ہو سکتا ہے کیونکہ ممکن ہے ایک شخص پاگل ہو اور اس کا دماغ ہی خراب ہو یا دیدہ و دانستہ وہ لوگوں کوگمراہ کرنا چاہتا ہو اس لئے کثرت کمیت و کیفیت کی شرط لگا دی مگر اپنی ذات کیلئے تو ہر شخص کی رؤیا حجت ہے۔رویا پر اعتبار کیوں نہ ہو جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مومن تو در کنار ، فرعون کی رؤیا پوری ہوئی، یوسف کے اصحاب الشجن کی رؤیا پوری ہوئی۔پھر سنو کہ لَهُمُ البشری ۴ سے پتہ لگتا ہے کہ مومن کو الہام ہوتے ہیں اور یہ لوگ خود اس آیت کو میرے معت ابلہ میں پیش کرتے ہیں کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ الہام تو ہوں گے مگر ان پر یقین نہ کرنا۔یونہی فضول ، لغو اور بیہودہ ہیں۔اگر یہی بات ہے تو الہام نازل