خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 38

خطبات محمود جلد ۴ ۳۸ (11) سال ۱۹۱۴ء اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دو گروہ بیان فرمائے ہیں (فرموده ۲۰ فروری ۱۹۱۴ء بمقام قادیان) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمتٍ لَّا يُبْصِرُونَ۔صُهُم بُكْمٌ عُمَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ۔أَوْ كَصَيِّبٍ مِّن السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللهُ مُحِيطٌ بِالْكَفِرِينَ يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَا لَهُمْ مَّشَوا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ اور پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دو گروہ بیان فرمائے ہیں۔پچھلی آیات میں تو فرمایا تھا کہ منافق کون ہوتے ہیں۔اب یہاں مثال دے کر سمجھایا ہے۔ایک منافق تو وہ ہوتے ہیں جو دل سے تو منکر ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں۔اور دوسرے وہ ہیں جو دل سے تو سچا یقین کرتے ہیں اور مانتے ہیں لیکن لوگوں سے ڈر کے مارے ظاہر نہیں کرتے اور عمل کی طاقت نہیں رکھتے۔وہ لوگوں سے ڈر کر گھبرا جاتے ہیں۔مال و جان کے خوف کے مارے ایمان ظاہر نہیں کر سکتے۔