خطبات محمود (جلد 4) — Page 457
خطبات محمود جلد ۴ ۴۵۷ (۸۴) اجتماع جمعہ کی برکات (فرموده ۲۴ - ستمبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد ، تعو ذاورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔خطبہ جمعہ بہت سی قومی ضروریات کی طرف جماعت کو متوجہ کرنے کیلئے ایک مفید اور بابرکت موقع پر ہوتا ہے۔لوگوں کو جمع کر کے کچھ سنانے میں بڑی بڑی دقتیں پیش آتی ہیں۔کہیں سیکرٹری درخواست کرتے ہیں کہ ہم کو ایک ضروری بات پیش کرنی ہے، سب لوگ اکٹھے ہو جائیں۔کہیں سیکرٹری لوگوں نے کے گھروں پر بلانے کیلئے جاتے ہیں کہ پچھلے اجلاس میں بہت سے ممبر نہیں آئے تھے اس لئے کورم پورا نہ ہو سکا تھا چونکہ ایک بہت ضروری بات ہے اس لئے اب کے آپ ضرور آئیں۔اس طرح کرنے سے بھی کوئی آتا ہے اور کوئی نہیں آتا۔لہذا ممبروں کو اکٹھا کرنے کی پھر کوشش کی جاتی ہے اور اس طرح مہینوں کے انتظار اور بہت سی لجاجتوں اور منتوں سے کہیں جا کر لوگ جمع ہوتے ہیں اور بات سنائی جاتی ہے لیکن پھر مجلس میں وہ شور مچتا ہے کہ الامان! ایک ادھر سے بولتا ہے ایک اُدھر سے پوچھتا ہے چاروں طرف سے آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں اور ہر ایک یہی سمجھتا ہے کہ اگر میری بات نہ سنی گئی تو اندھیر ہی آ جائے گا۔سب کا یہی خیال ہوتا ہے کہ اگر کوئی ایسی بات ہے جو لوگوں کے لئے مفید اور نفع رساں ہو سکتی ہے تو وہ میری ہی بات ہے۔چونکہ ہر شخص اپنی رائے کی بڑی عزت اور قدر کرتا ہے اس لئے اس کا دل اسے ملامت کرتا ہے کہ مجلس میں چپ نہ بیٹھنا۔اگر چپ رہا تو لوگ اس بات سے فائدہ نہیں الف