خطبات محمود (جلد 4) — Page 446
خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۶ سال ۱۹۱۵ء اس قسم کے لوگ ہمارے اندر سے پیدا ہو گئے ہیں اور یہ حسن کشوں کی جماعت ایسے رنگ میں ظاہر ہوئی ہے کہ اس نے خود ہی محسن کشی نہیں کی اور اپنے محسن کے کام کو خود ہی ترک نہیں کیا بلکہ یہ بھی کوشش کی ہے کہ اس کی تعلیم کو دنیا کے پردہ سے مٹادیں۔چنانچہ آج ہی ایک خط ماریشس سے آیا ہے جو ایک احمدی نے بھیجا ہے مسٹر نورد یا ان کا نام ہے۔ان کو مولوی محمد علی صاحب نے ایک خط بھیجا جس میں لکھا ہے کہ مجھے مولوی غلام محمد کے ماریشس جانے کی خوشی ہے لیکن آپ ان کو یہ سمجھا دیں کہ وہاں یہ عقائد نہ پھیلائیں کہ مسیح موعود مجد دنہیں بلکہ نبی تھے اور اسی لئے ان کے منکر تمام مسلمانانِ عالم کا فر ہیں۔یہاں ہندوستان میں ان دو عقیدوں سے سلسلہ کو نقصان عظیم پہنچا ہے پس وہاں ان کو شروع ہی میں ملیا میٹ کرنا چاہیئے۔اس انسان سے کوئی کہے کہ تم جو لوگوں کو قسمیں دیتے ہو تم خود ہی قسم کھا کر بتلاؤ کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کا ذکر کرنے سے یہاں کیا نقصان پہنچا ہے۔ایک وہ جماعت ہے جو حضرت مرزا صاحب کو نبی مانتی ہے اور ایک وہ جو نبی نہیں مانتی۔اب سوال یہ ہے کہ جو نبی مانتی ہے اس نے سلسلہ کی ترقی میں کیا کام کیا اور جونہیں مانتی اس نے کیا کیا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا اقرار کرنا اور غیر احمدیوں کو یہ ملامت کرنا کہ تم ایک نبی کا انکار نہ کرو ورنہ نبی کے انکار سے کا فر ہو جاؤ گے، سلسلہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والی باتیں ہیں تو میرا سوال ہے کہ پھر ترقی اس جماعت کی ہونی چاہئیے جو ان دونوں باتوں کی قائل نہیں ، نہ کہ اُس جماعت کی جس کے راستے میں یہ دورو کیں حائل ہیں لیکن زمانہ اختلاف سے لے کر اس وقت تک میرے پاس بہت سے ایسے لوگوں کے خطوط آچکے ہیں جو لکھتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود کو خدا کا نبی مان کر بیعت کرتے ہیں۔پھر اگر یہ باتیں روک ہیں تو ہم نے جو کتابیں نبوت کے متعلق لکھی ہیں ان کے پڑھنے سے ایسی آوازیں کیوں آئیں کہ ان کی وجہ سے ہمیں حضرت مسیح موعود کی اصل شان سے آگاہی ہوئی ہے، اس لئے ہم بیعت کرتے ہیں اور مسیح موعود کو نبی مانتے ہیں۔اس قسم کے خطوط صرف غیر مبائعین کی طرف سے ہی نہیں آئے بلکہ غیر احمدیوں کی طرف سے بھی آئے ہیں۔لیکن کیا مولوی محمد علی صاحب نے جو کتابیں نبوت کے خلاف لکھی ہیں ان کے پڑھنے والوں میں سے بھی کسی نے ان کے موافق خیالات کا اظہار کیا ہے۔پس اگر نبوت مسیح موعود کا پیش کرنا احمدیت سے لوگوں کو دور کرنے کا باعث ہے تو