خطبات محمود (جلد 4) — Page 445
خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۵ سال ۱۹۱۵ء چنانچہ یہ لوگ جب دُکھ میں تھے تو عیسائی ہونے کو تیار تھے اور اقرار کرتے تھے کہ اسلام سچا مذ ہب نہیں ہے لیکن جب ان پر آسمانی بارش نازل ہوئی اور ان کے گند دھوئے گئے اور ان کی ظلمت دور کی گئی تو انہوں نے دعوی کر دیا کہ مرزا صاحب نے کیا کیا۔وہ تو معمولی مجد دتھے، اس طرح کے مجد دکئی گزرچکے اور کئی آئیں گے۔کہنے والے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جو کام مرزا صاحب کرتے تھے وہی کام میں بھی کر رہا ہوں لیکن یہ اپنی حالت کو بھلانے کے ساتھ ہی اپنے محسن کو بھی بھول گیا اور خدا کے فضل اور انعام کو اپنی ہمت اور اپنی کوشش کا نتیجہ خیال کر کے تکبر میں آگیا ہے۔لیکن وہ سن لے اور کان کھول کر سن لے کہ ایک دن وہ تھا کہ تو اسلام کی صداقت سے بے بہرہ تھا اور اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت کے قبول کرنے پر تیار ہو چکا تھا، تیرے اندر ایمان نکل چکا تھا، تیری آنکھیں اندھی اور تیرا دل سیاہ ہو گیا تھا، اور تیری یہ حالت ہوگئی تھی کہ تو خدا تعالیٰ سے ایسا دور ہو چکا تھا کہ اس کی ہستی کے متعلق کوئی دلیل تجھ پر اثر نہ کرتی تھی لیکن جب مرزا کے ذریعہ تو نے ہدایت پائی، تجھے کھویا ہوا ایمان تجھے واپس ملا اور تجھ پر اسلام کی صداقت ظاہر ہوئی تو تو نے دعویٰ کر دیا کہ میں بھی وہی کام کر رہا ہوں جو مرزا نے آ کر کیا۔گویا تیرے خیال میں جس طرح کے مجدد مرزا صاحب ہیں اسی طرح کا تو بھی ہے لیکن کیا تجھے یاد نہیں کہ جب تک حضرت مرزا صاحب نے آکر صداقتِ اسلام کو ظاہر نہ کیا اور ایمان کی حفاظت نہ کی تھی اُس وقت تک تو یہاں تک مایوس ہو چکا تھا کہ اسلام کے چھوڑنے پر تیار ہو گیا تھا لیکن جب مرزا خدا کے فضل سے آیا تو نے و نے تکبر کیا اور کہا کہ ہم نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنی کوشش سے کیا ہے اور ہم وہی کام کر رہے ہیں جو مرزا صاحب نے کیا۔اے نادان! کیا تو نہیں سمجھتا کہ تو نے نہ پہلے کچھ کیا اور نہ اب کچھ کر سکتا ہے۔تیرا دل اور ایمان تو وہی ہے جسے عیسائیت کھینچے لئے جارہی تھی اور جو گمراہی کی طرف دوڑا جا تا تھا۔کیا تو بھول گیا کہ وہ کون سی آواز تھی جس نے تجھے اسلام کی طرف کھینچا، تیرے ایمان کو بچایا ، تجھے گمراہی سے روکا وہ حضرت مسیح موعود کی آواز تھی۔کیا اس آواز سے پہلے تو مایوس نہ تھا اور ضرور تھا۔اس تکبر، انانیت اور انکار کے زمانہ میں بھی تو اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ میں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے ہی لگا تھا کہ ایک آواز آئی جس نے مجھے بچالیا۔یہ آواز وہ تھی جو حضرت مرزا صاحب کے ہونٹوں سے نکلی جس نے گمراہی سے تجھے روکا لیکن آج تو نے کہہ دیا کہ وہ ایک ایسا ہی ملہم تھا جیسے اور ہوئے ہیں۔