خطبات محمود (جلد 4) — Page 444
خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۴ سال ۱۹۱۵ء زمین پر آدم کی اولاد نے قدم رکھا ہے جبھی سے کمزور اور نا شکر گزار طبائع اس مرض میں گرفتار پائی گئی ہیں۔اور آج تک کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا کہ اکثر انسان اس کمزوری اور غلطی سے بری نظر آئے ہوں۔جب کبھی بھی خدا تعالیٰ کا ان پر رحم اور فضل ہوا تو انہوں نے منہ موڑ لیا اور یہی دعویٰ کیا کہ ہمیں اپنی ہمت اپنی کوشش اور اپنی عقل سے یہ کچھ ملا ہے خدا کا اس میں کیا دخل ہے لیکن جب تک انہیں کچھ نہیں ملا ہوتا تو ہمت توڑ کر اور بالکل نا امید ہو کر بیٹھ رہتے ہیں۔یہ زمانہ بھی اس قسم کے لوگوں سے مستثنیٰ نہیں۔جیسا کہ پہلے زمانہ میں اس قسم کے لوگ ہوئے ہیں کہ انعام ملنے کے وقت ناشکر گزار اور نہ ملنے پر نا امید ہو جاتے تھے ، یہی فطری کمزوری آج بھی بہتوں میں پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس طرح وہ لوگ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں سے کام نہ لیتے تھے، اس کے دیئے ہوئے علم پر عمل نہ کرتے تھے ، اس کی بتائی ہوئی تدبیروں پر کار بند نہ ہوتے تھے ، اس کے احکام کے مطابق کام کرنے میں کمزوری دکھاتے تھے اور اس کے کے فضل اور انعام کے وقت ناشکر گزار بن جاتے تھے ، آج بھی بہت سے ایسے ہیں کہ جب تک خدا نے ان پر اپنا فضل نہ کیا تھا نا امید ہو گئے تھے اور جب فضل نازل کیا تو کہہ دیا کہ ہم نے کسی سے کچھ نہیں لیا، ہم خود بڑے آدمی ہیں ہم ہی سب کچھ کرتے ہیں ، ہمارے ہی ذریعہ سارا کام ہو رہا ہے۔ایک زمانہ مسلمانوں پر ایسا آیا ہے جبکہ ان میں سے کسی پر وحی نازل نہیں ہوتی تھی، کوئی ماموران کی طرف نہیں آیا تھا، کوئی نبی انہیں ہدایت دینے کیلئے مبعوث نہیں ہوا تھا اور کوئی ایک آواز انہیں ایک جگہ پر ا کٹھے کرنے کے لئے بلند نہیں ہوئی تھی اُس وقت بہت سے لوگ ایسے تھے جو خدا کے فضل سے نا امید ہو چکے تھے انہیں اسلام پر شکوک اور شبہات پیدا ہو گئے تھے اور اس بات کا یقین ہو چلا تھا کہ اسلام ایک جھوٹا مذہب ہے، اسلام کو ترک کرنے کی تیاری کر چکے تھے، کوئی آریہ ، کوئی عیسائی اور کوئی دہر یہ ہونے کو تیار تھا لیکن جب خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کیا ، ان میں اپنا ایک نبی بھیجا جس نے انہیں اسلام پر قائم کیا اور گمراہ ہونے سے بچایا تو افسوس ان میں سے بعض نے کہہ دیا کہ ہمیں مرزا نے کیا سکھایا، ہم آپ ہی سب کچھ جانتے تھے۔وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَتَأْجَانِبِہ۔اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کسی کی کیا پرواہ ہے میں خود سب کچھ ہوں لیکن وَإِذَا مَسَّهُ الشَّمرُ كان يَمُوسًا۔اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو نا امید ہو کر بیٹھ رہتا ہے کہ اب میں کہیں کا نہ رہا۔