خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 33

خطبات محمود جلد ۴ ۳۳ (1۔) سال ۱۹۱۴ء منافق لوگوں سے پر ہیز واجب ہے فرموده ۱۳۔فروری ۱۹۱۴ء بمقام قادیان) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے سورۃ بقرہ رکوع دوم کا ایک حصہ پڑھ کر فرمایا کہ:۔اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کا ذکر پہلے رکوع میں بیان فرمایا ہے جو قرآن کریم کے نزول کے وقت ہوئے تھے۔ایک وہ گروہ جو ایمان لے آئے اور دوسرا گر وہ جنہوں نے نہ مانا۔پھر ان کا نتیجہ بیان فرمایا اور بتلایا کہ ان کو کیا اجر ملے گا۔فرمایا کہ جنہوں نے مان لیا وہ تو کامیاب اور مظفر اور منصور ہو گئے اور جنہوں نے نہ مانا ، ان کو عذاب عظیم ہوگا اور وہ تباہ ہو جائیں گے۔اب فرمایا کہ ایک گروہ اور بھی ہے جو ان دونوں گروہوں میں سے اپنے آپ کو الگ بتاتا ہے۔مگر قرآن کریم نے ان کو دوسرے گروہ میں شامل کیا ہے۔وہ اپنے مونہوں سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ہم نے اللہ کو مان لیا اور یوم آخرت کو بھی ہم مانتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے لیکن در حقیقت وہ مومن نہیں۔ان کا اندرونہ و بیرو نہ ایک نہیں ہے۔وہ منہ سے کچھ کہتے ہیں اور ان کے دلوں میں گند بھرا ہوا ہے۔ایسے لوگوں کا منہ سے اقرار کرنا نفع رساں نہیں ہے۔اور یہ مومن نہیں ہیں بلکہ یہ بھی منکرین میں سے ہیں اور انہی میں شامل ہیں۔ایسوں کی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔تو یہ ایک تیسرا گروہ پیدا ہو گیا۔وہ اپنے منہ سے ایمان کا اقرار کرتے ہیں اگر ان کے دلوں میں بھی وہی ہو جو وہ منہ سے کہتے ہیں تب تو ٹھیک ہے مگر وہ ایسے نہیں اس لئے مومنین کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے۔انہوں نے اللہ کو