خطبات محمود (جلد 4) — Page 30
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء پھر آدم علیہ السلام کے قائم مقام بھی بڑھے اور اس کی اولاد نے ترقی کی تو ادھر ابلیس کے بھی قائم مقاموں نے ترقی کی اور وہ بڑھتے گئے پھر جتنا جتنا زمانہ بڑھتا گیا اتنے ہی یہ دونوں تو میں بڑھیں۔موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا اور حضرت عیسی کے ساتھ بھی۔اور آنحضرت مصلای ایلم کے زمانہ مبارک میں بھی ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی تھی جنہوں نے اس وجہ سے نافرمانی کی کہ ان میں سے ایک آدمی نکل کر سمجھانے کے لئے کھڑا ہو گیا ہے اور وہ نبی بن گیا ہے۔ہمارے زمانے میں بھی ایک جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کیا اور انہوں نے انکار اس وجہ سے نہیں کیا کہ ان کو سمجھ نہیں تھی بلکہ اس وجہ سے انکار کر دیا کہ ان کے دل میں ایک تعصب اور ہٹ دھرمی تھی۔جب کسوف و خسوف ماہا رمضان میں ہوئے تو ایک مولوی جو اس وقت مسجد میں ٹہل رہا تھا بار بار کہتا جا رہا تھا۔ممن لوگ گمراہ ان ہون گے، ہن لوگ گمراہ ہون گے یعنی اب لوگ گمراہ ہو جائیں گے کیونکہ حدیثوں میں یہ مہدی کا نشان لکھا ہے کیونکہ اس کے زمانہ میں کسوف و خسوف دونوں ماہ رمضان میں اکٹھے ہوں گے۔اور اب وہ بات تو سچی ہوگئی اور ایک شخص ایسا بھی موجود ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود و مہدی معہود ہوں اور اس نے اپنی صداقت کا نشان یہ بھی بتلایا ہوا ہے تو اب لوگ اس کو مان لیں گے۔اب اس کی ضد اور تعصب کو دیکھو کہ وہ کہتا ہے کہ لوگ جو مان لیں گے وہ گمراہ ہو جائیں گے۔وہ سمجھا ہوا تھا مگر ایک بغض جو اس کے دل میں تھا اس کی وجہ سے اس نے اس ہدایت کا نام بھی گمراہی رکھا۔ایک اور مولوی جس سے احمدیوں کا مباحثہ ہوا وہ بہت ہی خلاف باتیں لوگوں کو بتلا رہا تھا۔اسے ایک دوسرے آدمی نے اسی کی زبان میں سمجھانا چاہا تو اس نے جواب دیا کہ ہم اگر لوگوں کو تمہاری مخالفت کی وجہ سے ایک کی بجائے دو خدا منوانا چاہیں تو یہ ماننے کو تیار ہیں۔ایسے لوگوں کا کام صرف مقابلہ ومجادلہ ہی ہوا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا دو گروہوں میں سے جو لوگ کہ کسی بے علمی کی وجہ سے انکار کرتے ہیں اور جب علم ہو گیا تو مان لیتے ہیں ایسے لوگ کامیاب ہوں گے اور جو لوگ کہ ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کو کام میں لاتے ہیں ایسے لوگوں کو تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا برا بر ہے، ایسے لوگ ہدایت نہیں پاسکتے۔خدا تعالیٰ بڑا غیور ہے۔بہت سے انسان با غیرت ہوتے ہیں انسان کی فطرت میں غیرت کے سمجھانے کیلئے یہ رکھا ہے کہ انسان جب کسی کے ساتھ کوئی احسان کرے یا کسی پر خوش