خطبات محمود (جلد 4) — Page 348
خطبات محمود جلد ۴ ۳۴۸ سال ۱۹۱۵ء مانتے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کی نسبت کہتے ہیں کہ ان سے وہ لوگ اچھے ہیں اور یہ مسلمان کہلانے والے اور اس نبی کے ماننے والے بہت گندے اور بڑے ہیں۔فرما یاد یکھو کیسے حماقت میں بڑھ گئے ہیں کہ وہ انسان جو ان کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے ان کے نبیوں کو سچا مانتا ہے، توحید کا اعلان کرتا ہے اور شرک کی بیخ کنی کرتا ہے، اس کو اور اس کے ماننے والوں کو تو یہ کہتے ہیں کہ گمراہ اور گندے ہیں اور وہ لوگ جو ان کے نبیوں کو گالیاں دیتے ہیں، ان کی کتابوں کو جھوٹا سمجھتے ،شرک کرتے اور قسم قسم کی برائیوں میں مبتلا ہیں اُن کو ان سے اچھا سمجھتے ہیں۔کیوں ایسا کہتے ہیں اس لئے کہ ضد اور ہٹ کی وجہ سے یہ حد سے بڑھ گئے ہیں۔کہتے ہیں واقعات دوبارہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں اور پہلی باتوں کا اعادہ کرتے رہتے ہیں یہ درست ہے۔شاید بعض لوگوں کو تعجب ہوتا ہو کہ یہودی مسلمانوں کو یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ ان کی نسبت مشرک اچھے ہیں یہ مسلمان گمراہ اور کافر ہیں لیکن مشرک اور بت پرست ان سے زیادہ ہدایت پر ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ شاید بہت سے لوگ یہ کہہ دیں کہ یہ تو ناممکن ہے کون ایسا کہہ سکتا ہے؟ لیکن نہیں خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جیسے نیک لوگ ایک زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں ویسے ہی دوسرے زمانہ میں بھی پیدا ہوتے ہیں اور جیسے شریر انسان ایک وقت میں ہوتے ہیں ویسے ہی دوسرے وقت میں بھی ہوتے ہیں تا کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو معلوم ہو کہ پچھلے واقعات قصے اور کہانیاں نہیں بلکہ واقعات ہیں۔مثلاً یہی کوئی کہہ دے کہ یہود نے تو مسلمانوں کو ایسا نہیں کہا، یونہی ان کی طرف یہ اعتراض بنا کر پیش کر دیا گیا ہے۔پس ان گزشتہ باتوں کو واقعات کے رنگ میں لوگوں کے سامنے رکھنے کے لئے ہر زمانہ میں دہرایا جاتا ہے۔چنانچہ ایک زمانہ تھا جبکہ کسی کا بھائی یا بیٹا احمدی ہو جاتا تو وہ کہتا کہ اس سے تو عیسائی ہو جاتا تو اچھا تھا لیکن کاش احمدی نہ ہوتا۔گو غیر احمدی یہ تسلیم نہ کریں کہ آنحضرت سایتم کی احمدی دل سے عزت کرتے ہیں، قرآن شریف کو دل سے خدا تعالیٰ کا کلام سمجھتے ہیں لیکن یہ تو نہ مانیں گے اور انہیں ضرور مانا پڑے گا کہ ایک احمدی زبانی طور پر تو ان باتوں کا اقرار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کو ماننا پڑے گا کہ احمدی خدا کو تین نہیں بلکہ ایک ہی مانتے ہیں اور آنحضرت ملی کہ تم کو نعوذ باللہ ) گالیاں نہیں دیتے لیکن باوجود اس کے وہ یہی کہا کرتے ہیں کہ ہمارا فلاں رشتہ دار عیسائی ہوتا تو اس سے بہتر تھا کہ احمدی ہوتا۔پس یہی وہ لوگ تھے جو اس آیت کے معنوں کے مصداق ہیں۔