خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 343

خطبات محمود جلد ۴ ۳۴۳ سال ۱۹۱۵ء ت کاروبار اور اپنے خاص الخاص بندوں کے ذریعے ہی نظر آتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدہ اور پیارے بندوں کے ذریعہ لوگوں کو نظر آتا ہے، اس لئے بعض نادان ان بندوں کو ہی خدا سمجھ لیتے ہیں یا ت ان میں خدا کی صفات قرار دے دیتے ہیں۔جس طرح ایک نادان انسان پانی میں سورج کا عکس دیکھ کر کہہ دے کہ یہی سورج ہے حالانکہ اصل سورج تو اور ہے اسی طرح یہ لوگ کرتے ہیں، اسی بات سے بہت سے لوگوں کو بڑا دھوکا لگا ہوا ہے۔یہ جو خدا کے اوتار مانتے ہیں ان کو بھی یہی غلطی لگی ہے کیونکہ خدا تو اپنی جگہ ہے انسانوں میں داخل نہیں ہوتا۔پس اس دھوکا اور غلطی کی وجہ سے جس قدر بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں ان کو نادانوں نے خدا بنانے کی کوشش کی ہے۔کسی کو انہوں نے خدا کا بیٹا بنالیا توکسی کو خدا ہی قرار دے دیا اور کسی کو خدائی صفات کا وارث مان لیا۔چونکہ آنحضرت ﷺ نے شرک کے خلاف ایسا زور لگایا ہے جیسا کسی نبی نے نہیں لگایا، اس لئے آپ کی امت کو خدا تعالیٰ نے بہت کچھ اس سے بچائے رکھا ہے۔مسلمان اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ كه كر اس فتنہ سے تو بچے کہ آنحضرت صلی اب تم کو خدا بناتے یا خدائی صفات دے دیتے لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت شرک کم کیا۔مگر بعد میں آنے والے بزرگوں کی نسبت بہت زیادہ شرک میں مبتلا ہو گئے۔چنانچہ سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت عجیب عجیب قصے مشہور کر رکھے ہیں۔حضرت معین الدین چشتی ، بابا فرید الدین شکر گنج وغیرہ بزرگوں سے بہت بڑا شرک کیا جاتا ہے اور پھر ان سے بھی زیادہ شرک ان کی معمولی قبروں سے کیا جاتا ہے جو قریبا ہر گاؤں میں بنی ہوتی ہیں۔میں نے خودا پنی آنکھوں سے لوگوں کو قبر پر اس طرح پورا سجدہ کرتے دیکھا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ کیلئے کیا جاتا ہے اور ان سجدہ کرنے والوں کو یہ پورا یقین ہوتا ہے کہ ہم اس طرح برکت حاصل کر رہے ہیں حالانکہ قرآن شریف میں شروع سے لے کر اخیر تک اس شرک کی بیخ و بن کو اکھاڑا گیا ہے۔اگر مسلمان سمجھتے تو قرآن نے تو ایسا بیان کر دیا تھا کہ ان پر شیطان شرک کی راہ سے کبھی حملہ نہ کرتا لیکن افسوس انہوں نے قرآن کو بالکل چھوڑ دیا اور شیطان کی زد میں آگئے۔اس وقت میرا روئے سخن ایک خاص مسئلہ کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ علم غیب کسی انسان کو ہوتا ہے یا نہیں؟ اس بات پر بڑی بحثیں ہوئی ہیں کہ آنحضرت سائی تم کو بھی یہ علم تھا یا نہیں۔حنفیوں نے کہا ہے کہ نہیں اس لئے ان کے اس کہنے پر ان پر بڑے بڑے فتوے