خطبات محمود (جلد 4) — Page 344
خطبات محمود جلد ۴ ۳۴۴ سال ۱۹۱۵ء لگے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی یا پریتم کی بے ادبی کی ہے حالانکہ یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں خدا تعالیٰ نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔نہ آنحضرت سلیم اور نہ کوئی اور شخص۔بے شک آنحضرت سلی ایتم تمام نبیوں کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے بڑے اور اور محبوب بلکہ آپ کی اتباع کرنے والا خدا کا محبوب ہو جاتا ہے مگر باوجود اس کے آپ خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اسی کے محتاج تھے۔پس آپ کے اندروہی صفات رہیں گی جو بندوں میں ہوتی ہیں اور وہ صفات کبھی نہیں آسکتیں جو خدا تعالیٰ نے صرف اپنے لئے مخصوص کر رکھی ہیں۔علم غیب بھی اسی میں سے ہے اس لئے صرف خدا ہی جانتا ہے کہ کیا کچھ ہوتا ہے اور کیا ہوگا۔ان آیتوں میں خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ علم غیب کے ہونے کیلئے کتنی چیزوں کے ہونے کی ضرورت ہے۔اول یہ کہ اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ۔یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والا ، خود قائم رہنے والا اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہو۔سوئے نہیں اور نہ اُسے اونگھ آئے۔کیونکہ جب سو گیا تو اس کے سونے کے عرصہ کا اسے علم کہاں رہا۔دوم۔آه مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الأَرْضِ۔اسی کے قبضہ قدرت میں وہ سب چیزیں ہوں جو زمین و آسمان میں ہیں۔وہی ان کی حفاظت کرنے والا اور وہی ان کا نگران ہو۔یہ سب باتیں علم غیب کیلئے ضروری ہے ہیں۔جب کسی انسان کی نسبت علم غیب کا ہونا کہا جائے گا تو یہ سب صفات بھی اس میں مانی پڑیں گی کیونکہ جب تک کسی میں یہ باتیں نہ ہوں وہ عالم الغیب نہیں ہو سکتا آنحضرت سمائی کہ تم تو سو یا بھی کرتے تھے۔آپ پیدا بھی ہوئے اور وفات بھی پاگئے جس کو آج تیرہ سوسال سے زائد عرصہ ہونے کو آیا ہے، پھر آپ کی نسبت عالم الغیب ہونا کس طرح کہا جاسکتا ہے۔پس آنحضرت صلی یا الہی تم ہوں یا کوئی اور انسان ہو ، اسی حد تک اس کے اندر طاقتیں ہیں جو خدا نے انسانوں کیلئے پیدا کی ہیں اور وہ طاقتیں جو خدا نے اپنے لئے مخصوص کر رکھی ہیں وہ آنحضرت ایا ہی ہمیں بھی نہیں پائی جاتیں۔پس جب آپ میں نہیں تو اور کسی نبی میں بھی نہیں نہ حضرت موسیٰ“ میں نہ حضرت عیسی " میں اور نہ مسیح محمدی میں نہ عبد القادر جیلانی وغیرہ میں اور نہ ہماری جماعت میں سے کسی انسان میں۔بعض لوگ نادانی سے یوں کہہ دیتے ہیں کہ حضور پر سب کچھ روشن ہے حضور تو پوشیدہ خیالات کو خود معلوم کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ شرک کے کلمات ہیں اور خطر ناک شرک ہے۔ہمارا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا