خطبات محمود (جلد 4) — Page 326
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء ہے کہ اس میں پائی جائیں اور بہت زیادہ پائی جائیں۔لیکن بہت سے مذاہب نے اس بات کی پرواہ نہیں کی اور ان کی پرواہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان مذاہب کی کتابوں اور عقائد میں انسانوں نے اپنی طرف سے باتیں بنا کر ملا دیں۔یاوہ مذہب ہی سرتا پا خود ساختہ ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو کسی زمانہ میں قائم نہیں کیا۔ان دو وجوہات سے مختلف مذاہب میں گند پیدا ہو گیا ہے۔ان کے مقابلہ میں اسلام خدا تعالیٰ کا نازل کردہ مذہب ہے اور پھر قرآن شریف میں کسی انسان کا نہ دخل ہوا۔اور نہ ہو سکتا ہے اس لئے قرآن شریف آج بھی اُسی طرح ہے جس طرح کہ اترا تھا اس وجہ سے اسلام ہر طرح کے گندوں سے پاک اور صاف ہے لیکن مسلمانوں نے اپنی سمجھ اور علم کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو تمام صفات حسنہ والا مانتے ہوئے اس کی بعض صفات کی طرف توجہ نہیں کی۔ایسے لوگ یہ قیاس کر لیتے ہیں کہ جیسے ہم ایک دوسرے سے سلوک کرنے کے جذبات کو کام میں لاتے ہیں ویسے ہی خدا تعالیٰ بھی اپنی مخلوق کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔یا یہ لوگ رائج الوقت خیالات کو اپنے عقائد کے ساتھ ملا کر کچھ اور کی اور ہی باتیں بنالیتے ہیں۔مذہب اسلام نے جہاں خدا تعالیٰ کو اور نقصوں سے پاک قرار دیا ہے وہاں ان لوگوں کے عقائد کی تردید بھی کی ہے جو کہتے ہیں کہ خدا بخشا نہیں اور کسی پر رحم نہیں کرتا۔یہ بہت سے مذاہب نے فیصلہ کر دیا ہوا ہے کہ خدا ہر گز نہیں بخشا۔ایسے مذاہب والوں کے خیال میں گویا خدا کے انتقام لینے کی صفت اس کی رحم کی صفت کے ماتحت نہیں بلکہ بالا ہے اور جہاں رحم اور انتقام کا مقابلہ ہوتا ہے وہاں رحم دب جاتا ہے اور انتقام اپنا کام کرتا ہے۔لیکن قرآن شریف نے اس کے خلاف اور بات بیان کی ہے اور وہ یہ کہ اس نے خدا تعالیٰ کے انتقام لینے کی غرض بتائی ہے کہ خدا لوگوں کو سزا دینے کی غرض سے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان سے انتقام نہیں لیتا بلکہ اس کے سزا دینے سے لوگوں کی اصلاح مد نظر ہوتی ہے۔پھر بتایا کہ کتب عَلى نَفْسِهِ الرَّحمة خدا نے تو اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ ہمارا رحم ہمیشہ سزا پر غالب رہتا ہے یعنی اس طرح اگر کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ رحم سے کسی کی اصلاح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس انسان کے جرم کی چشم پوشی کر دے گا اور اسے سز انہیں دے گا اور اگر کوئی ایسا موقع ہو کہ انتقام اور رحم دونوں کے استعمال کرنے سے اصلاح ہو سکتی ہے تو بھی خدا تعالیٰ رحم کو ہی کام میں لائے گالیکن اگر کوئی ایسا موقع در پیش ہو کہ رحم سے اصلاح نہ