خطبات محمود (جلد 4) — Page 286
خطبات محمود جلد ۴ ۲۸۶ سال ۱۹۱۵ء سی ای نام تیک از قبیل اضغاث احلام وحدیث النفس نہیں ہے ایسا ہی یہ وحی بھی ان شبہات سے پاک اور منزہ ہے اور اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی مجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گزشتہ انبیا علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں۔اور نیز ان کی پیشگوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں کہانیوں کے ہیں۔مگر یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہزار ہا لوگوں کیلئے واقعات چشم دید ہیں۔اور اس مرتبہ اور شان کے ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔یعنی دنیا میں ہزار ہا انسان ان کے گواہ ہیں سے " پھر آپ چشمہ معرفت کے صفحہ ۳۱۷ پر تحریر فرماتے ہیں :۔اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کیلئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے “ یہ تو حضرت مسیح موعود اپنے نشانات منجزات اور پیشگوئیوں کی نسبت لکھتے ہیں۔لیکن وہ لکھتا ہے کہ چند الہامات اور کشوف اور غیب کی خبروں سے جو صرف ان کی اپنی ہی ذات یا متعلقین یا چند دیگر اشخاص یا حوادث کے متعلق ہیں۔تم نے اسے نبی بنا دیا۔انہوں نے کیوں ایسا لکھا اس لئے کہ اس نے ایک صداقت کا انکار کیا اور بہانہ یہ بنایا کہ ہم حضرت مسیح موعود کے اقوال کو مانتے ہوئے کسی اور کو نہیں مانی سکتے لیکن دراصل انہوں نے حضرت مسیح موعود کے اقوال کو مانا نہیں بلکہ چھوڑا ہے۔وہ ہمیں کہتے ہیں کہ تم نے صداقت کو چھوڑا لیکن ہم نے کہاں چھوڑا ہے۔صداقت کو تو انہوں نے چھوڑا جو حضرت مسیح موعود کو چھوڑ گئے پھر آنحضرت سیل کی تم کو چھوڑنا پڑے گا اور یہی نہیں انہیں خدا کو بھی چھوڑنا پڑے گا کیونکہ