خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 267

خطبات محمود جلد ۴ ۲۶۷ سال ۱۹۱۵ء چیز ہے کیونکہ ان کا عفو خدا تعالیٰ کے حکم اور منشاء کے ماتحت ہوتا تو جہاں اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا کہ عفو کے بجائے غضب ہو وہاں کیوں غضب سے کام نہ لیتے اور عفو کو دور کر دیتے۔یہ ان کی عادت ، ذوق اور طبیعت تھی جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔اور اس کو خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری نہیں کہا جا سکتا۔اطاعت اسی کا نام ہے کہ جب اپنی عادات ، اپنے خیالات، اپنی خواہشات اور اپنی آرزوؤں کے خلاف کوئی حکم پہنچے تو اس پر عمل کر کے دکھایا جائے۔یہود کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان کا یہی حال تھا۔یہ بڑے بڑے گناہ تو کر لیتے تھے اور بڑے ضروری احکام کی خلاف ورزی ہے کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے لیکن چھوٹی باتوں اور حکموں کے متعلق کہہ دیتے تھے کہ ہم ان کی پابندی کرتے ہیں کیونکہ یہ خدا کے حکم ہیں۔ان کو حکم تھا کہ دیکھو قتل مت کرو۔جس طرح ہمیں حکم ہے اسی طرح ان کو تھا کہ وہ لوگوں پر ظلم نہ کریں، انہیں قتل نہ کریں اور اپنے لوگوں کو گھروں سے نہ نکالو۔یہی حکم مسلمانوں کو ہے مگر یہود لڑائی جھگڑے میں خوب ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ان کے تین قبیلے مدینہ میں رہتے تھے۔بنونضیر، بنو قینقاع۔بنوخزاعہ۔ان کے نام تھے۔بنو نضیر مشرکین کے ایک گروہ کے ساتھ تھے اور بنو قینقاع اور بنو خزاعہ ایک دوسرے کے حلیف تھے۔جب مشرک آپس میں لڑتے تو انہیں بھی ساتھ ہی لڑنا پڑتا تھا۔ایک دوسرے کے آدمی بھی مارے جاتے تھے جلا وطن کئے جاتے تھے، یہاں تک تو کوئی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے قتل کرنے اور جلا وطن کرنے سے منع کیا ہوا ہے، اس لئے نہ کریں لیکن جب ان کا کوئی آدمی قید ہو جا تا تو پھر وہ چندہ کر کے اس کے چھڑانے کی فکر کرتے اور کہتے کہ بائبل کا چونکہ حکم ہے کہ کوئی یہودی غیر قوم کے پاس قیدی نہ رہے، اس لئے ہم اس حکم کی تعمیل کیلئے اسے چھڑاتے ہیں۔انہیں قتل کرنے اور جلا وطن کرنے کے وقت تو بائبل کا حکم یاد نہ آیا لیکن قیدی کیلئے یاد آ گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بھلا ان کی اس اطاعت سے ہم خوش ہو سکتے ہیں، ہر گز نہیں۔ایسی اطاعت کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں جو حکم اپنی مرضی کے مطابق دیکھا اس کی تعمیل کرلی اور جو نہ دیکھا اس کو پس پشت ڈال دیا۔ایسی اطاعت سے ہم خوش نہیں ہو سکتے بلکہ اور غصہ ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو ہم ذلیل اور خوار کریں گے۔یہ شریر آدمی جب اپنی مرضی کے خلاف بات دیکھتے ہیں تو بڑے بڑے احکام کی پرواہ نہیں کرتے اور ان کی خلاف ورزی کر لیتے ہیں اور جب اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔مومن کی شان سے یہ بات بعید ہے۔