خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 266

خطبات محمود جلد ۴ ۲۶۶ سال ۱۹۱۵ء کے لوگ نمازوں کے زیادہ پابند ہوتے ہیں اور روزوں میں سستی کرتے ہیں اور بعض جگہ کے لوگ زکوۃ تو بڑی پابندی سے دیتے ہیں مگر نماز روزہ کی پرواہ نہیں کرتے۔اسی طرح بعض جگہ نماز روزہ کی تو پابندی کی جاتی ہے ہے مگر ز کوۃ نہیں دیتے۔بعض جگہ کے لوگ حج نہیں کرتے اور بعض جگہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ اگر حج کیلئے بھی جائیں تو شاید ہی اس سفر میں بھی نماز پڑھیں۔اب اس نماز ، اس روزہ اس زکوۃ ، اس حج کو خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اگر وہ خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہوتے تو جس خدا نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اسی نے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔اور جس خُدا نے زکوۃ دینے کا ارشاد فرمایا ہے اس نے حج کی تاکید فرمائی ہے لیکن ان کے ایک حکم ماننے اور دوسرے کو ترک کرنے ، ایک حکم کے قبول کرنے اور دوسرے کو رد کرنے نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ایسے لوگ جس فعل کو خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری سمجھتے ہیں وہ اصل میں فرمانبرداری نہیں بلکہ ان کے نفس اور ذوق کے مطابق وہ بات تھی جس کو انہوں نے کر دیا ہے۔ہاں اطاعت اور فرمانبرداری کا ثبوت تب ملتا ہے جبکہ ہر ایک رنگ میں اور ہر ایک رنگ کا مطیع اور ی فرمانبردار انسان اپنے آپ کو کر دکھائے خواہ وہ حکم اس کے ذوق ، منشاء ، خواہش، خیالات، رسم ورواج اور عادات کے مطابق ہو یا مخالف ، وہ اس میں اپنی اطاعت اور فرمانبرداری میں سر مموفرق نہ آنے دے۔لیکن اگر کوئی انسان احکام کے ایک حصہ کی اطاعت اور ایک حصہ کی مخالفت کرتا ہے تو اسے خوب سمجھ ہے لینا چاہئیے کہ اس بات کو اطاعت اور فرمانبرداری سمجھنے سے اس کا نفس اسے دھوکا اور فریب دے رہا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں اطاعت کیش ہوں حالانکہ وہ نا فرمان ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے دوستوں میں داخل ہوں حالانکہ اس کا دشمنوں سے تعلق ہے کیونکہ ہر ایک انسان کی فرمانبرداری کا ثبوت تب ہی ملتان ہے جبکہ وہ اپنے عادات ، خیالات اور ذوق کے خلاف باتوں میں بھی اطاعت کرے اور ی ان کے پورا کرنے میں پورا نکلے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی طبیعتوں میں غصہ نہیں ہوتا۔ان کے کے خلاف اگر کوئی بات کہتا ہے تو وہ بڑی خندہ پیشانی سے اس کو برداشت کرتے ہیں۔اور عفو اور درگزر خدا تعالیٰ کی ان پاک تعلیموں میں سے ہیں جو اس نے انسان کیلئے مقرر فرما ئیں۔تو بیشک ایسے انسان عفو اور درگزر کرتے ہیں لیکن اگر ان پر کوئی ایسا موقع آئے جہاں خدا تعالیٰ کیلئے غضب اور ناراضگی کی ضرورت ہے اور وہ وہاں بھی عفوا اور درگزر کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان کا یہ عفو اور درگزر کوئی اور