خطبات محمود (جلد 4) — Page 251
خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۱ سال ۱۹۱۴ء چودھری فتح محمد ولایت میں کیا کام کرتے ہیں۔اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری تعلیم کے مطابق کہ دنیا میں احمدیت پھیلائی جائے وہ کوشش کر رہا ہے اس کو کیا کامیابی ہوئی ہے۔اگر تمہارے طریق سے کامیابی ہوتی تو چودھری صاحب اس وقت تک ایک دو انگریزوں کو ہی مسلمان کرتے۔ایک اور شخص نے اسی مجلس میں سے کہا کہ میں نے چودھری فتح محمد کا خط چھپا ہوا دیکھا ہے جس میں لکھا تھا کہ جنگ ہورہی ہے جس سے اس کی مراد یہ تھی کہ چودھری صاحب ولایت میں کچھ نہیں کر رہے یونہی لغو کوشش کر رہے ہیں بھلا اس طرح کامیابی ہوسکتی ہے۔یہ باتیں سن کر میرے دل میں درد پیدا ہوا۔میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ الہی! اگر یہ سچ ہے کہ تو نے دنیا کی ہدایت اور راہ نمائی کیلئے مسیح موعود کو بھیجا، اگر یہ درست ہے کہ مسیح موعود تیری طرف سے مامور ہو کر آیا تھا، اگر یہ سچ ہے کہ دنیا سے اسلام اُٹھ چکا تھا اور مسیح موعود کو تو نے اسلام کے پھیلانے کے لئے بھیجا تھا تو دنیا میں اس کا نام لے کر اور اس کا ذکر خیر کر کے ہمیں برکت ہونی چاہئیے نہ یہ کہ ہم ترقی نہ کر سکیں اور اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوں۔اے میرے مولیٰ ! تو نے اپنے مسیح کو ہم میں رحمت کے طور پر بھیجا تھا یا عذاب کے طور پر۔اگر وہ عذاب کے طور پر آیا تھا تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس کو چھپائیں اور اس کی باتوں کو پوشیدہ رکھیں تا کہ مغضوب قوم نہ کہلائیں لیکن اگر وہ در حقیقت فضل اور رحمت تھا دنیا کی بدیوں کو دور کرنے اور اصلاح خلق کیلئے اور دنیا سے فسق و فجور دور کر کے امن و امان قائم کرنے کیلئے آیا تھا تو اسی کے ذریعہ دینِ اسلام کی ترقی ہونی چاہیئے مگر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خیال غلط ہے مسیح موعود کو دنیا نہیں مان سکتی۔کہنے والے نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مسیح موعود کا ذکر سلیم قاتل ہے۔اس بات کو کوئی نہیں دن گزرے ہیں۔میں نے متواتر ہر روز دعا کرنی شروع کی کہ الہی میں اپنے ہی ہے فائدہ کیلئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے فائدے کیلئے یہ چاہتا ہوں کہ تو اس بات کو ثابت کر دے کہ جس نبی کو تو نے ہم میں بھیجا وہ رحمت اور فضل ہے۔اسکے لئے کوئی سامان کر کے ایسا نظارہ دکھلا دیجئے کہ ہر ایک اسکو دیکھ لے اور اسے معلوم ہو جائے کہ حضرت مسیح موعود کا ذکر کر کے کامیابی ہوسکتی ہے۔گزشتہ ہفتوں میں جو ولایتی ڈاک آئی ، اس کو میں نے اس خیال سے پڑھا کہ خدا تعالیٰ کوئی خوش کن خبر پہنچائے گا، اس گزشتہ ہفتہ بھی میں نے اسی شوق سے خطوط کو پڑھا۔لیکن کوئی خط نہ تھا۔تا ہم مجھے خیال تھا کہ ایک منگل ( اس دن