خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 16

خطبات محمود جلد ۴ 17 سال ۱۹۱۴ء الغرض ربوبیت پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے وہ صفت رحمانیت پر غور کرنے سے حل ہو جاتا ہے اور جو رحمانیت پر اعتراض ہوتا ہے وہ صفت رحیمیت پر غور کرنے سے حل ہو جاتا ہے۔صفت رحمانیت نے نیکی سکھائی مگر وہ نیکی پر مجبور نہیں کرتا جیسا کہ بدی پر بھی کوئی مجبور نہیں کرتا۔کیونکہ اگر صبر سے کام لیتا اور نیکی بدی کا کرنا انسان کے اپنے اختیار میں نہ ہوتا تو صفت رحیمیت کا ظہور کس طرح ہوتا اور انسان نیکی پر اجر کس طرح پاتا۔پھر اس کے ساتھ مُلِكِ يَوْمِ الدین ہے بھی فرما دیا یعنی یہ نہ سمجھو کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے بالکل کھلا چھوڑ دیا ہے بلکہ انعامات کے ساتھ نافرمانی کرنے والوں کو سزائیں بھی مل رہی ہے ہیں۔لیکن اس کی صفت ربوبیت و رحمانیت کی وجہ سے یہ نہیں ہوگا کہ جہاں کسی نے بدی کیلئے ہاتھ اٹھایا اس کا ہاتھ کٹ گیا ، آنکھ اٹھائی اور وہ اندھی ہو گئی ، زبان کھولی تو زبان بند ہوگئی کیونکہ اس طرح تو پھر انسان کی بقا نہیں رہ سکتی اور بقا اول ہے اور کفر و اسلام اس کے بعد۔جب اس کی ہستی ہی نہ رہی تو کفر و اسلام اور اس کیلئے کتب الہیہ کا نزول اور رسولوں کی بعثت یونہی بے فائدہ ٹھہرے گی۔ہاں نیکی کے حصول کیلئے اور بدی سے رکنے کیلئے ایک جدو جہد کی ضرورت ہے۔اور انسان میں کمزوریاں ہیں اور ان کمزوریوں سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی کہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔رستے تو کئی موجود ہیں اور ہر ایک کا دعوی ہے کہ ہمارا راستہ ہی سیدھا ہے اس لئے سکھایا کہ یوں کہو وہ رستہ دکھا اور اس پر چلا جو تیرے مُنْعَمُ عَلَيْهِمُ کا رستہ ہے۔پھر ایسے لوگ بھی ہیں جو اس رستے پر چلے لیکن انہوں نے وہ رستہ چھوڑ دیا یا بوجہ ان کی بدعملیوں کے خدا نے ان سے چھڑا دیا اس لئے اس نے بتلایا کہ یوں عرض کرو کہ ہمیں مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ کا سیدھا رستہ ہدایت کر اور ان میں سے نہ بنا جن کو تو نے چھوڑ دیا اور نہ ان میں سے بنا جنہوں نے تجھے ترک کر دیا۔خدا تعالیٰ مجھے اور آپ کو صراط مستقیم کی ہدایت کرے۔(الفضل ۷۔جنوری ۱۹۱۴ ء ) ل الفاتحة : ٢ الفاتحة: ٤ الفاتحة: الرحمن : ٣،٢