خطبات محمود (جلد 4) — Page 17
خطبات محمود جلد ۴ ۱۷ (y) قرآن کریم پر عمل انسان کو دکھوں سے بچالیتا ہے (فرموده ۹۔جنوری ۱۹۱۴ء بمقام قادیان) سال ۱۹۱۴ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی: الم - ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقُتُهُمْ يُنْفِقُونَ ا اور پھر فرمایا:۔کوئی انسان دنیا میں ایسا نظر نہیں آتا جو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا چاہتا ہو۔ہر ایک انسان کامیاب اور مظفر ومنصور ہونا پسند کرتا ہے۔اور ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ دکھوں اور مصیبتوں سے بچ جاوے۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی تکلیفوں کو خوب سمجھتے ہیں وہ ذرا کسی بات میں دکھ معلوم کر لیں۔تو فورا اس سے الگ ہو جاتے ہیں۔اور کسی بات کو نفع مند دیکھیں تو اس کو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسان نا واقعی کے سبب ہی کسی تکلیف میں پھنستا ہے ورنہ جان بوجھ کر کوئی بھی نقصان دہ چیز کو ہاتھ نہیں ڈالت۔سانپ اگر چہ کیسا ہی خوبصورت ہو مگر اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔شیر کے منہ کے سامنے جان بوجھ کر کوئی نہیں جاتا۔دیدہ دانستہ کبھی بھی کوئی گرنے والے مکان کے نیچے نہیں جاتا۔اگر اسے معلوم ہو کہ اس چیز میں زہر ہے تو وہ اسے نہیں کھاتا۔انسان اسی صورت میں کسی کام کو ہاتھ ڈالتا ہے جبکہ اسے اس میں نفع کی امید ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ مجھے