خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 222

خطبات محمود جلد ۴ ۲۲۲ (۴۸) جسمانی اعضاء کی طرح روحانی اعضاء سے کام لینا چاہیئے (فرموده ۲۰۔نومبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :۔أَوَلَمْ يَهْلِلَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسْكِينِهِمْ إِنَّ فِي ذلِكَ لايت أَفَلَا يَسْمَعُونَ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرُعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ اس کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ اعضاء عطا فرمائے ہیں۔ہاتھ ہیں، پاؤں ہیں، کان ہیں، آنکھیں، ناک ہے، زبان ہے اور یہ اس لئے دیئے ہیں کہ انسان محتاج ہے بہت سے اشیاء کا اور وہ اشیاء تمام دنیا میں پراگندہ اور منتشر ہیں اور دوسری مختلف قسم کی ایسی اشیاء میں ملی ہوئی ہیں جو کہ بعض انسان کیلئے مضر ہیں اور بعض مفید ہیں اس لئے خدا وند تعالیٰ نے انسان کے اعضاء تین قسم کے بنائے ہیں۔ایک وہ اعضاء جن کے ذریعہ سے انسان اپنی ضرورت کی چیزوں تک پہنچ جاتا ہے یا ان کو اپنے تک لاسکتا ہے۔دوسرے وہ اعضاء ہیں جن سے انسان مخلوط چیزوں میں یہ فرق کر سکتا ہے کہ کون میرے لئے مضر ہیں اور کون سی مفید اور کون سی ایسی ہیں جن کا استعمال کرنا چاہئیے اور کون سی ایسی ہیں جن کو اپنے گھر میں رکھنا چاہئیے اور کون سی ایسی ہیں جو پھینک دینی چاہئیں تا کہ ایسا نہ ہو کہ بجائے نفع کے نقصان پہنچ جائے۔تیسرے وہ اعضاء ہیں کہ جب کوئی چیز استعمال کی جائے تو وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔