خطبات محمود (جلد 4) — Page 223
خطبات محمود جلد ۴ ۲۲۳ سال ۱۹۱۴ء مثلاً پاؤں انسان کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں۔کوئی چیز جنگلوں میں، کوئی آبادیوں میں کوئی پانی میں، کوئی خشکی میں کوئی پہاڑوں میں، کوئی غاروں میں ہوتی ہیں لیکن پاؤں ان سب تک انسان کو پہنچا سکتے ہیں۔پھر اس چیز کو ہاتھ پکڑ کر لے آتے ہیں۔پھر کئی حسیں ہیں جن سے انسان ان چیزوں میں سے اچھی اور بری چیزوں کو پہچانتا ہے۔کانوں کے ذریعہ اچھی اور بری آواز معلوم کرتا ہے۔آنکھوں کے ذریعہ بھلی اور بری اشیاء میں تمیز کرتا ہے۔زبان کے ذریعہ خوش ذائقہ بدذائقہ کا پتہ لگا تا ہے۔اور چھونے سے سخت اور نرم پہچانتا ہے ہے۔پھر اسی طرح ان چیزوں کے فوائد کے اثرات دیکھ کر عقل کے ذریعہ سمجھتا ہے کہ کون سی میرے لئے مفید اور کون سی مضر ہیں۔تو جس طرح انسان کے جسم کیلئے یہ اعضاء خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں اور ہر قسم کے اشیاء سے فائدہ اٹھانے اور ان کے نقصانات سے بچنے کے ذرائع بتائے ہیں اسی طرح روحانی اعضاء بھی ہوتے ہیں، روحانی کان بھی ہوتے ہیں، روحانی آنکھیں بھی ہوتی ہیں، روحانی قوت ذائقہ بھی ہوتی ہے اور روحانی حستیں بھی ہوتی ہیں اور ان باطنی اعضاء کے ذریعہ ان چیزوں کو پہچانا جاتا ہے جو روح کے لئے مفید یا مضر ہوتی ہیں۔لیکن افسوس کہ ان اعضاء سے بہت کم لوگ فائدہ اٹھاتے اور بہت تھوڑے ان کو استعمال میں لاتے ہیں۔کسی شخص نے ایک لطیفہ لکھا ہے اور ہے تو وہ لطیفہ ہی مگر عقلمند انسان ہر ایک بات سے سبق حاصل کر کے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس لئے یہ لطیفہ بھی فائدہ سے خالی نہیں۔لکھا ہے کہ کسی بادشاہ نے برسبیل تذکرہ اپنے ایک وزیر سے پوچھا کہ دنیا میں اندھے زیادہ ہیں یا سو جا کھے۔تو اس نے کہا کہ حضور اندھے زیادہ ہیں۔بادشاہ نے کہا کہ یہ بات تو مشاہدہ کے خلاف ہے کیونکہ اگر ہم بازار میں جائیں تو ہمیں سو جاکھے بہت نظر آتے ہیں اور اندھے بہت کم ہوتے ہیں اور اگر تمہاری بات صحیح ہے تو تم اندھوں کی ایک فہرست بنا کر دکھاؤ۔اس نے کہا بہت اچھا میں فہرست بنا کر حضور کے پیش کروں گا۔اس کے بعد وہ کہیں بازار میں رہتی بٹنے لگ گیا۔چونکہ وہ بادشاہ کا درباری تھا اور یہ کام اس کی حیثیت سے بہت گرا ہوا تھا اس لئے جو کوئی گزرتا ہے اس سے پوچھتا کہ جناب کیا کر رہے ہیں؟ تو وہ کہتا کہ رتی بٹ رہا ہوں اور پوچھنے والے کا نام اپنی فہرست میں لکھ لیتا۔حتی کہ بادشاہ بھی جب اس راستہ سے گزرا تو اس نے بھی یہی سوال کیا کہ کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے کہا کہ رتی بٹ رہا ہوں اور بادشاہ کا نام بھی اس فہرست میں لکھ لیا۔دوسرے دن