خطبات محمود (جلد 4) — Page 218
خطبات محمود جلد ۴ ۲۱۸ سال ۱۹۱۴ء کام نہیں آتے۔تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بالکل اور چیز ہے اور انسانی عذاب اور چیز۔پھر بہت بڑا احمق ہے وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے کی ترتیب نہیں دیکھتا اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ عذاب نازل کرتا ہے جس طرح وہ رب ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ ربوبیت کرتا ہے اسی طرح عذاب بھی نازل کرتا ہے۔لیکن جب عذاب نازل ہو جاتا ہے تو پھر وہ ایسی خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہوتی۔تم خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے قرآن شریف نے دو طریق بیان فرمائے ہیں۔جو آیت میں نے پڑھی ہے اسی میں یہ دوطریق درج ہیں۔اول یہ کہ جس قوم میں نبی موجود ہو اس پر عذاب نازل نہیں ہوتا۔یہ تو نبی کا جسمانی طور پر فائدہ ہے جو لوگوں کو ہوتا ہے تو ایک نبی کا زمانہ ہو تو بھی خدا اس کی وجہ سے اس کی جماعت کو بچائے رکھتا ہے اور جماعت کیا نبی سے جسمانی تعلق رکھنے والے کفار کو بھی بچاتا ہے۔دوسرا انسان گناہ کر کے خدا تعالیٰ سے بخشش مانگے تو بھی عذاب سے بیچ جاتا ہے۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے جب انسان تو بہ کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے اور فرشتوں کو فرماتا ہے کہ میرے بندے کی حاجت پوری کر دو کیونکہ اس کو یقین ہے کہ میں گناہ معاف کرتا ہوں۔اسی لئے میرے پاس آیا ہے۔اب میں ضرور اس کے گناہ معاف کر دوں گا۔تو دوسرا طریق یہ ہے کہ اگر انسان استغفار کریں اپنے گناہوں کے متعلق معافی کے طلب گار ہوں اپنے اندر عذاب سے بچنے کے لئے صلاحیت پیدا کر لیں تو ایسی حالت میں بھی خدا تعالیٰ ان پر رحم کر دیتا ہے۔پہلی صورت تو کسی کسی زمانہ میں ہی میسر ہوتی ہے۔لیکن جب یہ زمانہ ہو تو لوگوں کو دوسرا طریق ہی اختیار کرنا چاہیئے۔یعنی اپنے گناہوں کی معافی چاہنے کیلئے خدا کے حضور گرنا چاہیئے۔آج کل کا زمانہ بھی بڑا نازک ہے۔ایک طرف دینی دنیا وی اور روحانی ابتلاء ہیں تو دوسری طرف عزتیں جانیں اور مال ابتلاء میں ہیں۔دین کا یہ حال ہے کہ روز بروز کمزور ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔روحانیت کا یہ حال ہے کہ ایسے ایسے گندے اور مخرب الاخلاق سامان دن بدن پیدا ہورہے ہیں جو روحانیت کو تباہ اور معدوم کرنے کیلئے کافی ہیں۔جانوں اور جسموں کا یہ حال ہے کہ ہزاروں قسم کی بیماریاں اور تباہیاں پھیل رہی ہیں۔عزت کا یہ حال کہ لڑائیوں نے سینکڑوں کو نہیں بلکہ ہزاروں ایسے لوگوں کو جو بڑی عزت اور تو قیر رکھتے تھے معمولی انسان بنا دیا ہے۔