خطبات محمود (جلد 4) — Page 217
خطبات محمود جلد ۴ ۲۱۷ سال ۱۹۱۴ء اس میں تو کچھ شک نہیں کہ جو شخص بلا کسی قسم کی سرزنش کے بات مان لیتا ہے وہ ان کی نسبت جو مارکھا کر مانتا ہے باعزت ہوتا ہے اور جو دھمکی سے یا مار کی وجہ سے مانتا ہے وہ گرے ہوئے اخلاق کا انسان ہوتا ہے۔اس لئے مومن کو باعزت جماعت میں ہی شامل ہونا چاہئیے۔وہ انسان جو قید خانہ میں جا کر کہے کہ اب میں بات مان لیتا ہوں وہ بہت ذلیل ہو جاتا ہے۔اور لوگوں کی نظروں میں اس کی کچھ عزت نہیں ہوتی لیکن خدا تعالیٰ فوران کسی پر اپنا عذاب نازل نہیں فرما تا بلکہ ڈھیل دیتا ہے۔اور بار بار ڈھیل دینے کے باوجود جب کوئی انسان نیکی اختیار نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ سزا کا طریق استعمال کرتا ہے۔پہلے صرف نصیحت اور ذکر ہی فرماتا ہے مگر جب لوگ نہیں مانتے تو عذاب نازل کرتا ہے۔پھر اس عذاب کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔اس کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ مشکل بھی نہیں۔کیونکہ مشکل کو بھی انسان حل کر ہی لیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے عذاب کا مقابلہ تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی کر سکے۔خدا کی طرف سے ایک ذرہ تکلیف کو بھی انسان برداشت نہیں کر سکتا۔اور پھر ہزاروں خدا کے عذاب کی راہیں ہیں۔بیماریاں ملکوں کے ملک ویران کر دیتی ہیں۔قحط سے لوگوں کے بڑے حال ہوتے ہ ہیں۔وہی اولاد جس کیلئے وہ ہر ایک تکلیف برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں، بچہ بیمار ہوتا ہے تو ماں نے راتوں کو جاگتی ہے لیکن قحط کے دنوں میں خدا کا ایسا سخت عذاب نازل ہوتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو بھی کھاتی جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ کسی شخص نے بیان کیا کہ ایک دفعہ قحط کے دنوں میں ہم کشمیر جارہے تھے راستے میں ایک جگہ ہم نے دیکھا کہ آگ جلا کر کسی نے بچہ بھون کر کھایا ہے اور اس کی ایک ران پھر کھانے کے لئے رکھی ہوئی ہے۔تو خدا تعالیٰ کی گرفت اور عذاب کے وقت لوگ سب کچھ بھول جاتے ہیں کیونکہ اللہ کے عذاب کوئی معمولی عذاب تو ہوتے نہیں ان کا مقابلہ انسانوں کی تکلیفوں اور عذابوں سے کرنا سخت نادانی اور بیوقوفی ہے۔خدا تعالیٰ کے عذاب کے وقت کوئی پیاری سے پیاری چیز کسی کو پیاری نہیں رہتی۔يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ آخِيْهِ وَأُمِّهِ وَآبِيْهِ۔وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِي مِنْهُم يَوْمَئِذٍ شَأْنْ يُغْنِيهِ بھائی بھائیوں کو ، ماں باپ بیٹوں کو ، بیٹے ماں باپ کو ، بی بی خاوند کو، خاوند بیوی کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ہر ایک انسان اپنی اپنی حالت میں مبتلاء ہوتا ہے۔اور کوئی کسی کی مدد کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔یوں جو لوگ جان قربان کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں اس موقع پر ذرا بھی