خطبات محمود (جلد 4) — Page 205
خطبات محمود جلد ۴ ۲۰۵ سال ۱۹۱۴ء یہاں کھینچ لائی۔اس کے علاوہ اس وقت لوگوں میں ایک محبت اور عقیدت کے جذبات جوش مارتے ہوں گے جبکہ وہ خیال کرتے ہوں گے کہ آج ہم اس متبرک اور پاک سرزمین پر پھر رہے ہیں جس پر آج سے تیرہ سو سال پیشتر حضرت سان لا الہ اتم پھرتے تھے۔اور پھر خصوصا یہ کہ جب آنحضرت صلہ یہ تم کو اہل مکہ نے یہاں سے نکال دیا تو کس شان و شوکت سے دوبارہ وہ قدوم میمنت لزوم یہاں پہنچے اور وہ مکہ کے لوگ جن کی اذیتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور یہاں لا الہ الا اللہ کہنے کی اجازت نہیں تھی۔لیکن آج ہر ایک کی زبان پر الله أكبر الله اكبر لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُ اَكْبَرُ وَلِلهِ الْحَمْدُ جاری ہوتا دیکھ کر کیا ہی لذت آتی ہوگی۔آج کے دن زوال سے لے کر سورج کے ڈوبنے تک حاجی عرفات میں اور مغرب سے لیکر صبح تک مزدلفہ میں آنحضرت سلیم کی سنت پر عمل کرنے والے دعاؤں میں لگے رہتے ہیں۔افسوس کہ بہت کم لوگ اس کے طرف توجہ کرتے ہیں اور اکثر ادھر اُدھر پھر کر وقت گزار دیتے ہیں۔آنحضرت سل ستم کی نسبت لکھا ہے کہ آپ صبح تک دعاؤں میں مشغول رہتے۔دعاؤں کیلئے یہ وقت بہت مبارک ہے۔جس کو خدا نے عرفات اور مزدلفہ میں دعاؤں کی توفیق دی ہے وہ تو بہت خوش نصیب ہے لیکن جو اپنے گھروں میں ہیں ان کیلئے بھی خوش قسمتی کا موقع ہے وہ بھی دعاؤں میں مشغول ب سے پہلے اس انسان کے لئے بہت دعائیں کی جائیں جس کے طفیل مذہب اسلام ہمیں ملا یعنی آنحضرت سلیم کیلئے۔اگر آپ کی مصیبتیں ، آپ کی جان کا ہیاں اور آپ کی دعائیں نہ ہوتیں تو ہم تک کہاں اسلام پہنچ سکتا تھا۔اور آپ نے دن رات لگ کر تیئیس سال متواتر بلا ایک دم اور لمحہ راحت اور چین میں رہنے کے اسلام کی اشاعت کی جس کے نتیجہ میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی جس نے ہم تک اسلام کو پہنچایا۔تو پہلے آنحضرت صلی یا کہ تم کیلئے پھر صحابہ کی جماعت کے لئے دعائیں کرو۔اس نے جماعت نے اپنی جانیں، اپنے مال، اپنا وطن ، اپنی بیویاں ، اپنے بیٹے غرضیکہ سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔خبیث الفطرت ہے وہ انسان جو صحابہ کرام کی قدر نہیں کرتا ، پھر ان لوگوں کیلئے دعا ئیں کرو جنہوں نے صحابہ سے اخذ کر کے بعد میں آنے والی نسلوں کو اسلام پہنچایا۔ان میں سے محدثین کی جماعت جس نے آنحضرت مال یتیم کے اقوال کو ہم تک پہنچایا۔پھر آئمہ دین کی جماعت کہ