خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 206

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء جنہوں نے اپنی ساری عمر میں صرف کر کے آنحضرت سیلی نیا اسلام کے اقوال سے مسائل استنباط کئے۔پھر وہ جماعت جس کا خدا تعالیٰ سے خاص تعلق ہوتا ہے۔یعنی صوفیاء کی جماعت جنہوں نے اسلام کی باطنی خصوصیات کو قائم رکھا۔یہ ایسی جماعتیں ہیں جن کیلئے جس قدر بھی دعائیں کی جائیں کم ہیں۔پھر اس نے زمانہ میں جس انسان نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔اس کیلئے تڑپ تڑپ کر دعائیں کرو۔اسلام کی روح نکل چکی تھی اور اسلام مُردہ ہو چکا تھا۔لیکن اس انسان نے اپنے مولیٰ کے حضور شبانہ روز کی عاجزی اور زاری کر کے اور بڑی محنت اور کوشش سے ایک ایسی جماعت بنائی جس کے پاس آج زنده اسلامی موجود ہے۔اس جماعت کی ترقی کے لئے دعائیں کرو۔پھر ایک حصہ جماعت کا جو علیحدہ ہو چکا ہے اور ابھی تک اپنی ضد پر قائم ہے اس کیلئے دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ انہیں سمجھ دے۔پھر قرب الہی کیلئے ، اپنی جانوں کیلئے دعائیں کرو۔کہ خدا تعالیٰ اپنی رضامندی کی راہوں پر چلائے کیونکہ جب تک قوم کا ہر فرد اپنے اندر کمالات نہ رکھتا ہو اس وقت تک کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔پس اپنے دین کی ترقی ، ایمان کی ترقی اور سلسلہ کی ترقی کیلئے دعائیں کرو۔پھر اس کیلئے بھی دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں خدمت دین کی توفیق دے اور تمہاری نسلیں نیک پیدا ہوں۔اپنے والدین ، اپنے بھائیوں، اپنے بیٹوں، اپنے رشتہ داروں، اپنے نوکروں، اپنے آقاؤں اور اپنے محسنوں کیلئے دعائیں کرو۔میں بھی تمہارے لئے دعائیں کروں گا اور تم بھی میرے لئے دعائیں کرنا۔وہ کام جسے ہم نے کرنا ہے بہت ہی عظیم الشان ہے لیکن وہ خدا تعالیٰ جو ایک چھوٹے سے بیج سے بڑ جیسا بڑا درخت اور ایک دانے سے ہزاروں دانے پیدا کر سکتا ہے کیا وہ اشرف المخلوقات انسان کو بڑا نہیں بنا سکتا۔ضرور بنا سکتا ہے اور اس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے۔صرف مانگنے کی دیر ہے۔پس تم مانگنے لگ جاؤ۔اور خوب دعائیں کرو۔خدا تعالیٰ تم سب کی دعائیں قبول فرمائے۔الفضل ۵۔نومبر ۱۹۱۴ء)