خطبات محمود (جلد 4) — Page 152
خطبات محمود جلد ۴ ۱۵۲ سال ۱۹۱۴ء کا حکم دیا۔پھر کچھ زیادہ آدمیوں کیلئے ہفتے میں ایک دفعہ اجتماع رکھا۔پھر اس سے زیادہ لوگوں کیلئے سال بھر میں دو دفعہ اجتماع کا وقت مقرر کیا۔پھر سال میں ایک دفعہ مگر ساری دنیا کی اطراف سے آئے ہوئے لوگوں کے شامل ہونے کیلئے موقع رکھا۔اس طرح کرنے سے فائدہ کیا ہوا اور کیوں اس طرح کیا۔اس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کچھ لوگ تھے جنہوں نے ہمارے مقرر کردہ قواعد کے خلاف کیا اور جو دن ہم نے ان کی عبادت کیلئے مقرر کیا تھا اس کا انہوں نے ادب نہ کیا اس لئے ہم نے ان کو ذلیل بندر کی طرح کر دیا۔بندر کیوں ذلیل و خوار ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی خود کوئی حیثیت نہیں ہوتی جس طرح اس کو نچانے والا نچاتا ہے اسی طرح وہ ناچتا ہے اور جس طرح وہ ہے انسانوں کو کرتے دیکھتا ہے اس کی نقل اتارتا ہے خود اسے کچھ سمجھ اور عقل نہیں ہوتی۔ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک شخص ٹوپیوں کی دکان کیا کرتا تھا اور اس نے خود بھی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ایک دن وہ ٹوپی پہنے ہی سو گیا تو بندروں نے اس کی تمام ٹو پیاں لے کر اپنے سروں پر پہن لیں اور درختوں پر چڑھ گئے وہ بیچارہ بہتیرا ٹوپیوں کو واپس لینے کی کوشش کرتا رہا۔لیکن ناکام رہا اگر وہ نیچے سے پتھر مارتا تو وہ اوپر سے پھل اتار کر پھینکتے اور جس طرح وہ کرتا اسی طرح وہ بھی کرتے جاتے۔آخر اس نے اپنی ٹوپی اتار کر زمین پر پھینک دی یہ دیکھ کر تمام بندروں نے بھی ٹوپیاں اُتار کر پھینک دیں اور اس نے اٹھا لیں تو یہ بندر میں دوسرے تمام جانوروں سے خصوصیت ہوتی ہے کہ ہر ایک بات کی نقل بڑی جلدی اتارتا ہے مگر اس کی اصلیت سے بالکل نا واقف ہوتا ہے ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود نے اس دن کا ادب کرنا جو چھوڑ دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس صرف شریعت کی نقل رہ گئی اور اصل اڑ گیا۔اصل وحدت، اتفاق اور اتحاد کو انہوں نے ترک کر دیا اور بناوٹی اتحاد اور صلح ان میں رہ گئی۔مسلمانوں کی حالت :۔كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِین سے آجکل کے مسلمانوں کو یہ مناسبت ہے کہ نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں، حج کرتے ہیں لیکن یہ ان کا سب کچھ بندر کی حرکات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔مسلمانوں پر اسی وقت سے مصیبت اور تباہی نازل ہوئی ہے جب سے کہ انہوں نے جمعہ کو چھوڑا ہے۔اول تو اکثر حصہ مسلمانوں کا جمعہ پڑھتا ہی نہیں اور جو پڑھتا ہے وہ بعد میں احتیاطی پڑھ لیتے ہیں کہ شاید جمعہ کی نماز ہوئی بھی ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارا ایک دوست