خطبات محمود (جلد 4) — Page 125
خطبات محمود جلد ۴ ۱۲۵ سال ۱۹۱۴ء اس سے ایمان اٹھ گیا۔بہت سے لوگ اس لئے نہیں مانتے کہ اگر مانیں گے تو بہت سی باتیں ترک کرنی ہے پڑیں گی۔اس لئے پھر وہ نبی کا مقابلہ کرتے ہیں اور جب مقابلہ کیا تو جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے بھی ضرور خلاف کرنا ہوا۔اس لئے وہ پھر ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں۔پہلے انسان حد سے بڑھتا ہے۔پھر نبی کا مقابلہ کرتا ہے اور پھر آخر کار آیات اللہ سے بالکل انکار کرتا ہے۔پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خیر وشر میں تمیز نہیں کرسکتا۔جیسا کہ بچہ ایک عمدہ سے عمدہ چیز کی بجائے روٹی ہی پسند کرتا ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو فرمایا ہے کہ ہم تمہیں انعام دیں گے اور تمہیں بڑی بڑی نعمتوں کا وارث کریں گے مگر یا درکھو کہ ساتھ ہی اس کے کچھ دنیاوی لالچ بھی ہوں گے مگر ہوشیار رہنا ان لالچوں میں نہ پڑ جانا۔صلح حدیبیہ میں مسلمانوں میں بعض کمزور ایمان والوں کو ٹھوکر لگی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب یہ ایک موقع تھا جو ہاتھ سے نکل جائے گا۔اس میں اگر جنگ کرتے تو فتح کر لیتے مگر اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کو وہ نہیں سمجھ سکتے تھے۔دیکھو آخر کار وہی صلح فتح کا موجب ہوئی۔ہماری جماعت میں بھی بعض لوگوں کو ٹھوکر لگی ہے۔اور وہ ٹھو کر سیاست سے متعلق لگی ہے۔حضرت صاحب کی تعلیم یہ ہے کہ سیاست کو چھوڑ کر تم دین میں لگ جاؤ۔اسی سے متعلق تم کو سیاست بھی حاصل ہو جائے گی۔مگر لوگوں نے اسے سمجھا نہیں۔دین میں لگنے سے وہ باتیں جو سیاست سے بھی حاصل نہیں ہو سکتی تھیں وہ مل سکتی ہیں مسلمانوں نے اگر زیادہ سے زیادہ سیاست میں کچھ حصہ لیا تو انہیں یہی کچھ ملا کہ وہ معمولی عہدوں پر رکھ لئے گئے۔کوئی بڑا عہدہ ان کو نہیں ملا۔لیکن اس کے مقابل پر اگر انبیاء کی تعلیم پر چلا جاوے تو تھوڑے دنوں میں کامیابی حاصل ہو جاوے۔بر خلاف اس کے دیکھو لو کہ جو لوگ سیاست میں مشغول ہوتے ہیں وہ دین سے غافل ہو جاتے ہیں۔سیاست دراصل کوئی بری چیز نہیں ہے۔لیکن اس وقت وہ ہمارے لئے ترقی کی راہ میں روک ہے۔اس لئے دین میں ہمہ تن لگ جانا چاہیئے۔سیاست میں پڑنے والوں کی بعینہ وہی حالت ہے کہ آتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ اَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ۔دین جو بالکل خیر و برکت تھا اسے چھوڑ کر دنیاوی معاملات میں پڑ گئے اور دین سے غافل ہو گئے۔خدا تعالیٰ نے یہ ایک راہ ( دین ) ترقی کیلئے نکالی تھی۔مگر بعض نے سیاست میں حصہ لینا چاہا۔اور سیاست میں ضرورت تھی جتھے کی۔اس لئے انہوں نے غیر احمدیوں سے ملنا چاہا۔اس لئے اپنوں سے جدا ہوئے ادھر