خطبات محمود (جلد 4) — Page 124
خطبات محمود جلد ۴ ۱۲۴ سال ۱۹۱۴ء نے پسند کیا۔ان کو اللہ کے حکم پر ایمان نہ ہوا اور یقین نہ آیا کہ ہمیں سلطنت مل سکے گی اور اپنا بادشاہ بننا ممکن خیال نہ کیا اس لئے پھر ذلیل ہو گئے۔جولڑ کے پڑھتے ہیں انہیں یقین ہو کہ ایک دن آتا ہے جب ہم کچھ بن جاویں گے تب تو وہ ضرور محنت کرتے ہیں اور پڑھائی ان کو کوئی مشکل نہیں معلوم ہوتی لیکن جن طلباء کو امید نہیں ہوتی اور یقین نہیں ہوتا کہ ہم علم سے بڑے مرتبہ تک پہنچ سکتے ہیں وہ پھر محنت نہیں کرتے اور اپنا وقت کھیل کود میں ضائع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے خدا کی پیشگوئی پر یقین نہ کیا اور یہ سمجھا کہ موسیٰ غلط کہتا ہے۔ہمیں کوئی بادشاہت نہ ملے گی اور یہ بات ان کے دلوں میں اس لئے آئی کہ وہ رسول کا مقابلہ کرتے تھے۔کسی بزرگ یا مامور من اللہ کا مقابلہ کرنا بہت خطرناک ہے۔مقابلہ کرنے والے کا ایمان آہستہ آہستہ سلب ہو جاتا ہے۔حضرت صاحب نے اس پر مفصل بحث تریاق القلوب میں کی ہے۔جو شخص کسی مامور من اللہ کا مقابلہ کرتا ہے اس کے دل پر ایک سیا ہی آجاتی ہے اور جوں جوں وہ مقابلہ کرتا چلا جاتا ہے توں توں اس کے دل کی سیاہی بڑھتی جاتی ہے۔اور اس کا ایمان آہستہ آہستہ سلب ہوتا جاتا ہے اور اگر وہ مقابلہ پر اڑا رہے تو آخر کار اس کا ایمان بالکل سلب ہو جاتا ہے اور اس کا دل بالکل سیاہ ہو جاتا ہے۔یہ معاملہ صرف کسی ایک بزرگ یا مامور سے خصوصیت نہیں رکھتا بلکہ کل انبیاء کا یہی حال ہے جو ان کا مقابلہ کرے گا اس کا ایمان سلب ہو جائے گا۔بعض لوگوں نے سلب ایمان اور کفر میں فرق بتایا ہے۔یہ غلط بات ہے۔حضرت صاحب نے تریاق القلوب میں بتا دیا ہے کہ ایک آدمی کس طرح کا فر بنتا ہے۔وہ پہلے اللہ تعالیٰ کے کسی نبی کا مقابلہ کرتا ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ اس سے نور ایمان چھین لیا جاتا ہے۔اور جوں جوں وہ مقابلہ میں دلیری سے کام لیتا ہے اور بڑھتا ہے آہستہ آہستہ اس سے نیکی کی توفیق بالکل اٹھالی جاتی ہے۔عبد الحکیم کو دیکھ لو۔جب وہ احمدی جماعت میں تھا تو اس کی اور حالت ہے تھی۔لیکن جب اس نے ارتداد اختیار کیا اور آپ کا ( حضرت مسیح موعود ) کا مقابلہ کیا تو پھر اس سے اعمال صالحہ کی توفیق اٹھالی گئی۔یہ سب کچھ کیوں ہوا۔ذلِكَ بِمَا عَصَوا۔یہ اس کا بدلہ ہے جو مامور کی نافرمانی کی اور اس کا مقابلہ کیا۔اس سے تدریجا آہستہ آہستہ اس کا ایمان سلب ہوتا گیا یہاں تک کہ بالکل ہی