خطبات محمود (جلد 4) — Page 111
خطبات محمود جلد ۴ (۲۶) سال ۱۹۱۴ء جے تو میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو (فرمودہ ۱۲۔جون ۱۹۱۴ء) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی :۔وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَانْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَ وَالسَّلوى كُلُوا مِن طيبت ما رَزَقْنَكُمْ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ۔وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِظَةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خطيكُمْ ، وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ فَبَتَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيْلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ مَا كَانُوا يَفْسُقُونَ اس کے بعد فرمایا:۔انسان کی طبیعت پر گردونواح کا اثر بہت پڑتا ہے جس قسم کے لوگوں میں وہ رہے انہی کے خیالات ، عادات واطوار کو وہ اختیار کر لیتا ہے اور جو اس کے سامنے رہے اس کا وہ عادی ہو جاتا ہے۔اور جن اشیاء کا وہ عادی نہ ہو اور جو چیز کبھی اس کے سامنے نہ آئی ہو اس کا وہ شروع میں ضرور مقابلہ کرتا ہے۔اور وہ چیز خواہ کیسی عمدہ ہو اس سے وہ کتراتا ہے اور ایسی چیز کو کرنا اسے دو بھر معلوم ہوتا ہے۔محکوم لوگوں میں ایک مدت کے بعد حکومت کی طاقت جاتی رہتی ہے اور وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ حکومت کس طرح کی جاتی ہے اور ایسے لوگوں کے سپرد اگر حکومت ہو جاوے تو وہ ڈرتے رہتے ہیں کہ مبادا ہم سے کوئی غلطی ہو جاوے۔تو وہ بالکل نہیں اُبھر سکتے۔