خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 57

خطبات محمود جلد ۴ ۵۷ سال ۱۹۱۴ء ایک دلیل ہے کہ تم یہ ہ سمجھ لو کہ ہم اپنی عقلوں سے کام لے کر کچھ کر لیں گے۔زمین پر اگر آسمان سے بارش نہ ہو تو وہ اپنے پھل و پھول نہ نکالے گی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی بارش آوے تو جو اعلیٰ درجہ کی فطرت ہوگی وہ اپنے اندر اصلاح کرلے گی اور نیکی کی طرف ہو جائے گی۔ان کا اعتراض رد کیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ اعتراض مشرکوں کا ہے مشرک ایسے اعتراض کیا کرتے ہیں اور یہ اعتقاد بر ہموؤں کا ہے۔اس آیت میں بتلایا ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنے والے جو ہیں وہ مشرک ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے فَلَا تَجْعَلُوا لِلهِ أَنْدَادًا جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمیں کسی آسمانی شریعت یا آسمانی کلام کی ضرورت نہیں۔ہم خود بخود خدا تک پہنچ سکتے ہیں۔وہ مشرک ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو اوروں کی طرف منسوب کرتے ہیں پس فرماتا ہے کہ اگر تمہیں اس میں شک ہو تو تم ایسی پاک تعلیم جیسی پاک اور بے عیب تعلیم لاؤ۔وہ پاک نبی تو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ تعلیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر الہام کی گئی ہے تو تم بھی کم ازکم اور کچھ نہیں تو اتنا ہی سہی یہ دکھلا دو کہ یہ تعلیم ہمارے فلاں بت نے ہمیں بتلائی ہے یا فلاں دیوتا نے الہام کی ہے۔وَادْعُوا شُهَدَاءَ كُمُ۔تم اپنے شرکاء سے کہلاؤ کہ ہم نے الہام کیا۔یا یہ بتلاؤ کہ ہمیں فلاں بت نے الہام کیا۔آج تک دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا نہ ہی دنیا میں کبھی کوئی ایسی تعلیم آئی۔وہ بت بھی ایک پتھر ہے جس میں نہ جس ہے نہ حرکت۔اس میں اور ی دوسرے پتھروں میں کوئی مَا بِهِ الْاِمتیاز نہیں ہے جیسے دوسرے پتھر ایسے ہی وہ پتھر۔جیسے ان کو جو جی چاہے کر لیں ویسے ہی ان کو۔تو فرمایا کہ اگر تم بھی سچے ہو تو ہماری پاک تعلیم کے مقابلہ پر یہ دعوی کرو کہ یہ ہماری تعلیم سچی ہے۔اور اگر ایسا نہیں کرتے تو ڈر جاؤ تم آگ میں جاؤ گے اور ساتھ ہی پتھر بھی جائیں گے جن کو تم نے اپنا معبود بنایا ہوا ہے۔کوئی کہے کہ ان پتھروں کا کیا قصور؟ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان اگر خود بھی دکھ میں ہو اور پھر اس کو بھی دکھ میں پائے جس کی وہ پیروی کرتا ہے تو اسے زیادہ دکھ ہو گا۔اسی لئے فرما یا کہ تم بھی اور تمہارے یہ بت بھی آگ میں جائیں گے۔کفار مکہ کو ایک تو اپنے مغلوب ہونے کی ندامت اور عذاب تھا۔دوسرے جب ان کے سامنے ان کے بت جن کو وہ بڑا محترم سمجھتے تھے اور ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔ان کے سامنے توڑے گئے تو ان کو کیسی کچھ تکلیف ہوئی ہوگی۔میں نے شرک کے مسئلہ پر بہت غور کیا ہے۔ہر ایک چیز کو فرڈ افرد الو اور اس پر غور کرو کہ ان کی خدائی کا