خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 56

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء نہ کریں، آسمان سے کسی تعلیم کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس اعتراض کا جواب یہاں دے دیا ہے۔فرمایا : خوب یاد رکھو کہ انسان کے اندر ایک ترقی کرنے کا مادہ ہے انسان ترقی تب ہی کر سکتا ہے اگر اس کے پاس اللہ تعالیٰ کے پاس سے کلام اور ہدایت آوے۔ورنہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام نہ آوے تو انسان ترقی نہیں کر سکتا۔مثال کیلئے دیکھو۔زمین میں روئید گیاں باہر نکالنے کا مادہ ہے لیکن اگر آسمان سے بارش نہ ہو تو زمین اپنے مادے باہر نہیں نکال سکتی اور اسے ظاہر نہیں کر سکتی، برسات سے ہی یہ چیزیں نکل سکتی ہیں۔تو خدا تعالیٰ نے بتلا دیا کہ آسمان سے کسی چیز کا آنا ضروری ہے۔پانی کیسی عمدہ چیز ہے اور صاف ہے لیکن وہی پانی جب استعمال کیا جاوے تو کیسا گندہ ہو جاتا ہے۔اب اگر اس مستعمل پانی کو استعمال میں لایا جاوے اور ہمیشہ وہی پانی ملے تو وہ ضرر رساں ہو جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس پانی کی بجائے اللہ تعالیٰ صاف پانی بھیج دیتا ہے اور اس پانی کو بادلوں کے ذریعہ صاف کر کے بھیج دیتا ہے۔اسی طرح شرائع الہیہ کا معاملہ ہے کہ وہ جب آتی ہیں تو پاک وصاف ہوتی ہیں۔بعد میں جب لوگ اپنی رائیں ان میں ملا دیتے ہیں اور اپنی عقلوں سے کام لیتے ہیں تو وہ ان کو خراب کر دیتے ہیں۔فی نفسہ تو وہ پاک وصاف ہوتی ہیں۔لیکن لوگ انہیں خراب کر دیتے ہیں اور انہیں قابل استعمال نہیں چھوڑتے۔تب پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور آتا ہے جو اس کو صاف کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔قرآن کریم جیسی سچی اور پر معارف کتاب جس نے دنیا کو تاریکی سے پاک وصاف کر کے نور سے پر کر دیا لیکن دنیا نے اس میں اپنی عقلوں کا دخل دے کر اسے نا قابل عمل کر دیا۔اب دنیا میں ایک مامور آیا اس نے اس پاک تعا کو پھر دوبارہ پاک و صاف کر دیا اور اسے ایسا کر دیا کہ اس پر آسانی سے عمل ہو سکے۔مسلمانوں کی تفسیریں دیکھو کہ ان میں کئی ایسی باتیں بھری ہیں جو اسلام کے اصول حقہ کے خلاف ہیں۔تو اس پانی کو صاف کرنے کیلئے ایک آسمانی پانی کی ضرورت پڑی۔وہ پانی آسمان سے آیا اور اس نے اس کو صاف کر دیا اور اس نے تمام دنیا کو سمجھا دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم اپنے اندرون کو دیکھو کہ تم کیسے صاف پانی کو گندہ کر دیتے ہو۔اسی طرح انسانی فطرت ہے کہ وہ کیسی صاف و پاک ہوتی ہے لیکن لوگ اسے اپنی عقلوں کا اس میں دخل دے کر گندہ کر دیتے ہیں۔پچھلی تعلیمیں بھی اسی لئے ناقابل استعمال ہوئیں کہ لوگوں نے انہیں گندہ کر دیا۔یہ